سپریم کورٹ آف پاکستان نے انتہائی اہم ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر کرپشن یا اختیارات کے غلط استعمال کا کوئی الزام نہیں، حکومت منی ٹریل کی بات کررہی ہے جبکہ بظاہر یہ ٹیکس کی ادائیگی کا معاملہ ہے اور ٹیکس ریٹرن ظاہر نہ کرنے پر آرٹیکل 209 لاگو نہیں ہوتا۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس میں مزید کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے متعلق ہے مگر وفاقی حکومت ابھی تک اسے ثابت نہیں کر سکی۔
جسٹس عیسیٰ کیس: فروغ نسیم کو سپریم کورٹ میں جوابات دینے میں مشکلات کا سامنا
حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل فروغ نسیم گزشتہ سماعت پر عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے تسلی بخش جوابات ایک بار پھر نہ دے سکے جس سے حکومت کو عدالت عظمیٰ میں سبکی کا سامنا رہا اور وکیل اس کوشش میں رہے کہ سوالات کے بجائے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی تیاری اور سپریم جوڈیشل کونسل کے مراحل پر عدالت کی توجہ مرکوز رکھی جائے۔ تاہم سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے تحریری معروضات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
سماعت کا تفصیلی احوال
بدھ کے روز عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کا دوبارہ آغاز کیا تو حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل فروغ نسیم نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ گزشتہ روز اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دینے سے پہلے کچھ حقائق بتانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 10 اپریل 2019 کو عبدالوحید ڈوگر نامی صحافی نے ایسیٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو) کو شکایت بھیجی اور ایک خط کے ذریعے لندن کی جائیدادوں کی قیمت خرید اور مارکیٹ ویلیو کے بارے میں بھی بتایا۔
بینچ کے ممبر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ وحید ڈوگر کی شکایت پر انکوائری کی تحقیقات کی اجازت کس نے دی۔ فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت کے تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں اور وہ عدالت کو بتائیں گے۔
حکومت کے وکیل نے کہا کہ 1988 کے بعد برطانیہ میں جائیداد کا ریکارڈ کھول دیا گیا ہے اور اے آر یو کو قانون کی مدد حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بچوں اور اہلیہ نے بھی لندن کی جائیداد ظاہر نہیں کی انکی اہلیہ نے 2014 میں اپنی آمدن 9285 روپے ظاہر کی، اسی طرح 2011 اور 2013 میں بچے تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد کیسے مہنگی جائیداد خرید سکتے تھے، 2011 اور 2013 میں بچوں کی عمر بھی زیادہ نہیں تھی، قاضی خاندان امیر ہے لیکن ریکارڈ میں زرعی زمین پر زرعی ٹیکس ظاہر نہیں کرتا۔
سماعت میں بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے حکومتی وکیل سے کہا کہ آپ منی ٹریل کی بات کرتے ہیں جبکہ بظاہر یہ ٹیکس کی ادائیگی کا معاملہ ہے اور اس مقدمے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر کرپشن کا الزام نہیں لگایا گیا۔
جسٹس مقبول باقر نے پوچھا کہ ایف بی آر نے اس معاملے پر کارروائی کیوں نہیں کی، اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر نے خوف کی وجہ سے ٹیکس کے معاملے پر جج کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ جسٹس باقر نے استفسار کیا کہ ایف بی آر حکام کارروائی نہیں کرتے تو کیا صدر مملکت قانونی کارروائی کو بائی پاس کر سکتے ہیں؟
انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہر ایک کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق ہے مقدمے کے حوالے سے ہر نقطے کا جائزہ لیا جائے گا، یہ بھی دیکھنا ہے کہ اہلیہ اور بچے زیر کفالت تھے یا نہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ وحید ڈوگر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام کا پتہ کیسے چلا؟ جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ وحید ڈوگر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام ہجے نہیں آتے تو جب نام کے ہجے درست نہیں ہونگے تو انٹرنیٹ پر کیسے سرچ ہوسکتا ہے؟
جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ وحید ڈوگر کس میڈیا کے لیے کام کر رہے ہیں؟ ان کا ماضی کیا ہے، ان کی کی درخواست پر بڑی تیزی سے کام کا آغاز کر دیا گیا، کیا وحید ڈوگر کو غیب سے معلومات ملتی تھیں؟ اس ملک میں بہت سے کام غیب سے ہی ہوتے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم نے یہاں دیکھا ہے کہ غیرملکی جائیداد کو ٹرسٹ کے ذریعے چھپایا گیا۔ وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ میرا ایک سطر کا جواب ہے کہ منی لانڈرنگ سنگین جرم ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بینک ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ دکھا دیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اگر پیسے بینکوں کے ذریعے منتقل کیے گئے ہیں تو پھر منی لانڈرنگ کی تعریف کیا ہوگی؟ جسٹس منصور علی شاہ نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کہتے ہیں کہ جواب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دیں؟
جسٹس مقبول باقر نے پوچھا کہ ایف بی آر میں انکم ٹیکس کا معاملہ کس مرحلے میں ہے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ بھی دریافت کیا کہ کیا ایف بی آر کا غیرملکی جائیداد ظاہر کرنے کا کوئی قانون نہیں ہے؟
دوران سماعت ایمنسٹی اسکیم کا بھی ذکر ہوا اور وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ جج کے بچے ٹیکس استثنیٰ کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ایمنسٹی اسکیم کا حوالہ دلائل میں کیوں دیا گیا۔ جسٹس منصور نے کہا کہ اس مقدمے سے ایمنسٹی کا تعلق کیا ہے، کیا جج نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہے؟
فروغ نسیم نے جواب دیا کہ جج نے ایمنسٹی اسکیم سے کوئی فائدہ نہیں لیا۔ انہوں نے دوران سماعت کہا کہ بھارت میں جج کی اہلیہ اور بچوں کے نام اثاثے تھے تحقیقات شروع ہوئیں تو جج نے استعفیٰ دے دیا۔ اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بھارت کے قانون کو چھوڑیں پاکستان کے قانون کی بات کریں کیا پاکستان کے قانون میں جج پر جائیداد ظاہر کرنے کی پابندی نہیں ہے؟
فروغ نسیم نے کہا کہ جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ کے پاس ٹیکس کا ریکارڈ نہیں اور وہ الزامات کے جوابات دینے کے بجائے آزاد عدلیہ کے پیچھے چھپنے کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس بات پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ یہ مناسب نہیں ہوگا کہ ریفرنس کی کارروائی کو زیر بحث لائیں، صدر مملکت نے جب ریفرنس کا فیصلہ کیا تو ان کے پاس کیا معلومات تھیں؟
جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت نے ریفرنس کے حوالے سے معلومات خود حاصل نہیں کی۔ جب فروغ نسیم نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ منی ٹریل دے دیں تو جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا قانون کے تحت جج منی ٹریل دینے کے پابند ہیں؟ سوال پر آتے نہیں ہیں اور قانون بھی نہیں دکھا رہے ہیں۔
جسٹس مقبول باقر نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس کا نوٹس جج کی اہلیہ کو جاری کیا گیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جج کہتا ہے کہ جائیدادوں کا مجھ سے نہیں متعلقہ لوگوں سے پوچھیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قانون دکھا دیں جس کے تحت جج کو اپنی اور خاندان کے افراد کی جائیداد کو ظاہر کرنا ضروری ہے؟ سیکشن پانچ کے تحت جج کے لیے ایسی پابندی نہیں کہ وہ غیر ملکی جائیداد ظاہر کرے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل صدارتی ریفرنس مسترد کر سکتی ہے، کیا سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ جوڈیشل کونسل صدر مملک کے ریفرنس پر ایسی ڈیکلیریشن دے سکتی ہے تو کیا جوڈیشنل کونسل کی ڈیکلیریشن اور آبزرویشن کے نتائج نہیں ہوں گے؟
وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ جوڈیشل کونسل ریفرنس کو مسترد کر سکتی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ٹیکس قانون کا آرٹیکل 116 زیر کفالت کی بات کرتا ہے جبکہ کسی کے خلاف مناسب مواد کی موجودگی کو قانون سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا جوڈیشل کونسل صدارتی ریفرنس پر کارروائی کی پابند ہے، اگر یہ ایک کمزور ریفرنس ہے جس کے پس پردہ مقاصد ہیں تو کیا کونسل ایسے ریفرنس پر کارروائی کرنے کی پابند ہے؟ کیا کونسل ریفرنس میں کمی، کوتاہی نظرانداز کر کے کارروائی کرسکتی ہے؟
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اے آر یو نے کتنی عوامی شکایات پر عوامی عہدہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہے؟ بعد ازاں عدالت نے وفاقی حکومت سے تحریری معروضات طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔