وزیراعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم از کم اس سال ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا، اس لیے عوام حکومتی ضابطہ کار پر عمل کریں تاکہ سخت لاک ڈاؤن نہ کرنا پڑے۔
لاک ڈاؤن کے متعلق فیصلہ
انہوں نے اعلان کیا کہ مخصوص شعبوں کے علاہ باقی سب کاروبار ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ لاک ڈاؤن ختم ہوگیا ہے۔
وزیراعظم نے خبردار کیا کہ ایس او پیز پر عمل کریں ورنہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانا پڑے گا اور پھر ان علاقوں میں کاروبار تباہ ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے حالات چین اور مغربی ممالک جیسے نہیں ہیں اور نہ ہی ہم ان کی طرح لاک ڈاؤن کے متحمل ہو سکتے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ مراعات یافتہ طبقے کا دباؤ تھا کہ سخت لاک ڈاؤن کیا جائے لیکن میں نے غریب اور دیہاڑی دار طبقے کو بھی دیکھنا تھا جو اس لاک ڈاؤن سے بری طرح متاثر ہوتے۔
سیاحت کا شعبہ
انہوں نے کہا کہ ہم سیاحت کا شعبہ بھی کھولنے کا سوچ رہے ہیں تاکہ جن علاقوں میں سیاح آتے ہیں وہاں کا روزگار قائم رہے۔
بیرون ملک پاکستانیوں کو واپس لانے کا فیصلہ
وزیراعظم نے کہا کہ این سی سی اجلاس کے فیصلے مطابق بڑی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارے پاس اسکریننگ کے لیے محدود وسائل تھے جس کے باعث بیرون ملک پاکستانیوں کو تیزی سے نہیں واپس نہیں لایا جا سکا۔
عمران خان نے بتایا کہ اب دیگر ممالک میں موجود پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے، ان کا ایئرپورٹ پر ٹیسٹ ہو گا جس کے بعد وہ گھر چلے جائیں گے، ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے پر انہیں گھروں میں قرنطینہ کرنا ہو گا۔
حکومت کا لاک ڈاؤن پرغور کیلئے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔
اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ صوبائی حکام ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں لاک ڈاؤن برقرار رکھنے یا نہ رکھنے سمیت تمام آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔
یاد رہے کہ پاکستان بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 73862 ہو چکی ہے جبکہ اموات 1565 تک جا پہنچی ہیں۔
پنجاب میں تصدیق شدہ کورونا کے مریضوں کی تعداد 26240 جبکہ سندھ میں 29647 مریض سامنے آئے ہیں،
خیبر پختونخوا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 10027، بلوچستان میں 4393، گلگت بلتستان میں 711، اسلام آباد میں 2589 جبکہ آزاد کشمیر میں 255 ہو گئی ہے۔