دیا میر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ کیس کی سماعت کے آغاز میں کمرہ عدالت لوگوں سے بھر گیا اور وہاں موجود افراد نے سماجی فاصلے کا اصول نظر انداز کیے رکھا جس پر چیف جسٹس گلزار احمد برہم ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت میں تمام لوگ جڑ کر کیوں بیٹھ گئے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ لوگوں کو بے احتیاطی کے باعث خطرات لاحق ہوں۔
کورونا کے خلاف بنیادی ایس او پیز کی خلاف ورزی دیکھتے ہوئے انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ سماجی فاصلے کے اصولوں پر عمل کیا جائے اور غیر متعلقہ افراد عدالت میں نہ بیٹھیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایس او پیز پر عمل کریں اور ایک ایک نشست چھوڑ دیں اور جن کا کیس ہے صرف وہی لوگ کمرہ عدالت میں رکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا والے بھی اپنا خیال کریں اور سماجی فاصلہ اختیار کریں۔
دوران سماعت واپڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دیا میر بھاشا ڈیم پر کام شروع ہو چکا ہے، کام شروع نہ ہونے سے 30 ملین روزانہ کا نقصان ہو رہا تھا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ منصوبہ کا ٹھیکہ کب دیا گیا؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ ڈیم پر کام کا ٹھیکہ رواں سال 13 مئی کو دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کب مکمل ہوگی جس پر چیئرمین واپڈا نے عدالت کو بتایا کہ یہ ڈیم جولائی 2028 میں مکمل ہو جائے گا۔
چیف جسٹس نے مہمند ڈیم پر تعمیر کی صورتحال کے متعلق پوچھا تو واپڈا کے وکیل نے بتایا کہ مہمند ڈیم پر کام شیڈول کے مطابق جاری ہے، اس ڈیم کا پہلا یونٹ 2024 میں آپریشنل ہو جائے گا۔ چیئرمین واپڈا نے کہا کہ مہمند ڈیم کے تینوں یونٹ جولائی 2025 میں مکمل ہو جائیں گے۔
سماعت میں اسٹیٹ بینک حکام نے عدالت کو بتایا کہ ڈیم فنڈ کی سرمایہ کاری اسٹاک ایکسچینج میں کی جائے گی تو اس میں زیادہ منافع کے ساتھ خطرہ بھی ہوگا، ڈیم فنڈز کا پیسہ جہاں انویسٹ کیا گیا ہے وہاں نفع بھی ٹھیک ہے اور سیکیورٹی بھی ہے۔
بیرون ملک سے آنے والے عطیات کے متعلق اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ڈیم فنڈ میں رقم جمع کرانے کے حوالے سے سفارت خانوں کو خط لکھ دیئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خط لکھنے سے کیا ہوگا، کسی سے فون پر بات کریں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کوئی پاکستانی ایسی جگہ سے پیسے بھیجنا چاہتا ہو جہاں پاکستانی بینک نہ ہو تو ایسی صورت میں متعلقہ سفارتخانوں کو رقوم کی پاکستان منتقلی کے طریق کار کا علم ہونا چاہئے۔
سپریم کورٹ نے بیرون ملک سے ڈیمز فنڈ میں آنے والی رقوم کی تفصیلات اسٹیٹ بینک سے طلب کر لیں۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ڈیمز بننے سے کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہو گی، اس کے لیے جو زمین استعمال ہو رہی ہے اور اس میں جو مسائل موجود ہیں وہ حل کریں، مہند ڈیم میں عثمان خیل اور برہان خیل کی زمین کا مسئلہ چل رہا ہے۔
واپڈا حکام نے بتایا کہ وہاں 32 گھرانے ہیں اور وہ زمین ابھی ہمیں درکار نہیں، پہلے مرحلے میں جو زمین چاہیے تھی وہ ہم حاصل کر چکے ہیں، مہند ڈیم کی تعمیر کیلئے ٹھیکدار نے اپنا کام شروع کر رکھا ہے۔
بعد ازاں کیس کی سماعت 6 ماہ کیلئے ملتوی کر دی گئی۔
