اس وقت دبئی میں زیادہ ملازمتیں موجود نہیں ہیں اور اگر کہیں ایسے مواقع موجود ہیں تو ان میں بھی سابقہ تنخواہوں سے 15 سے 20 فیصد کم تنخواہیں ملنے کا امکان ہے۔
دبئی میں اس وقت کمپنیاں نئی ملازمتوں میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہیں، جہاں انہیں نئے افراد کی ضرورت ہے وہاں بھی تنخواہیں کم دینے کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔
کورونا وائرس: دبئی میں پھنسے پاکستانی کو اپنے والد کا آخری دیدار ویڈیو پر کرنا پڑا
کورونا وباء کے باعث بیروزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گی، ماہرین معاشیات
کارن فیری ڈیجیٹل کے علاقائی ہیڈ وجے گاندھی نے گلف نیوز کو بتایا کہ رئیل اسٹیٹ سے لے کر پیشہ ورانہ خدمات اور دکانداری کے شعبے میں ہم بڑے پیمانے پر تنخواہوں میں کمی دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب مالیاتی خدمات اور توانائی کے شعبے میں تنخواہوں پر کٹ لگ جائے گا تو اگلے مرحلے میں اچھی کارکردگی پر ملنے والے انعامات اور دیگر بینیفٹس میں بھی کمی لائی جائے گی۔
تنخواہوں میں کمی کا معاملہ اب ہیلتھ کیئر کے نظام کو بھی دھیرے دھیرے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، کام کرنے کے اوقات اور تنخواہوں کے نظام میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
جون تک تمام کمپنیوں کو اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی مالی حالت کیا ہے اور ان کے پاس اپنے اسٹاف کی تعداد کے متعلق بھی بہتر جانکاری ہو گی، ہو سکتا ہے کہ اس وقت کوئی کمپنی ملازمین کو نکال دے جبکہ کوئی اور کمپنی دوبارہ سے لوگوں کو ہائر کریں۔
ملازمتوں کی موجودہ صورتحال
حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو ستمبر تک یہ عمل مکمل ہو جانا چاہیئے، اگلے کئی ہفتے ان افراد کے لیے پریشانی کا باعث ہو سکتے ہیں جو ملازمت کی تلاش میں دبئی کی سرزمین پر قدم رکھیں گے، یا جنہیں ملازمت سے جواب ملنے کے بعد دوسری جگہ کام کرنے کی تلاش ہو گی۔
ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب کمپنیوں نے فروری، مارچ کے دوران نئی ملازمتیں دینے کا فیصلہ کیا لیکن بعد ازاں منتخب کیے ہوئے امیدواروں کو یہ کہہ کر جواب دے دیا کہ ابھی حالات غیریقینی ہیں۔
گاندھی کا کہنا ہے کہ اب ملازمت کا طریق کار بھی طویل ہو گیا ہے، نئی نوکریوں کے انٹرویو اور امیدواروں کے انتخاب میں اب 4 سے 6 ہفتے لگتے ہیں جبکہ ماضی میں یہ عمل 4 سے 6 دنوں میں مکمل ہو جایا کرتا تھا۔
خوش قسمت لوگ
حال میں فری زونز اور دیگر جگہوں پر ایک کمپنی کے ویزے پر آنے والوں کے لیے دوسری کمپنی میں کام کرنا آسان ہو گیا ہے۔
گاندھی کا کہنا ہے کہ ہم حکام کی جانب سے کافی لچک دیکھ رہے ہیں اور ویزا ٹرانسفر کا عمل جاری ہے لیکن زیادہ تر مواقع پر کمپنیاں نئے افراد کو ملازمت دینے کے بجائے خاموشی سے حالات کا رخ دیکھ رہی ہیں۔
ان کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ کمپنیاں ستمبر میں نئی ملازمتوں کے لیے لوگوں کا انتخاب شروع کریں گی۔
کن شعبوں میں اب بھی ملازمتیں موجود ہیں؟
کورونا کے باعث ہونے والی معاشی افراتفری میں بھی چند شعبوں میں ملازمت کے مواقع موجود ہیں۔ نقل و حمل کے شعبے میں اور تجربہ کار ڈرائیوروں کے لیے جابز ہر وقت موجود ہیں۔
گاندھی کے مطابق روٹین کی ملازمتوں سے ہٹ کر ہیلتھ کیئر اور ای کامرس کے شعبے میں پروکیورمنٹ اور آپریشن کی سطح پر ملازمتیں مل رہی ہیں۔