سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی کی جانب سے ملازمین کو کاشتکار ظاہر کر کے سندھ حکومت سے سبسڈی کی مد میں کروڑوں روپے وصول کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔
نیب نے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت منسوخی کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کر لیا ہے، نیب نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ حکومت سے شوگر ملز نے سبسڈی کی مد میں 72 کروڑ روپے سے زائد رقم وصول کی، ملزمان نے ملازمین کو گنے کا کاشتکار ظاہر کیا اور کین کمشنر کی ملی بھگت سے 34 کروڑروپے سے زائد کی رقم جعلی اکاؤنٹس میں جمع کرائی۔
درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم داؤدی مورکاس سجاول ایگرو فارمز کا اکاؤنٹ چلاتا رہا جس میں سبسڈی کے خردبرد کیے گئے 178 ملین جمع کرائے گئے۔
نیب نے موقف اپنایا ہے کہ داؤدی مورکاس اور مصطفی ذوالقرنین مجید سمیت تمام ملزمان ضمانت کے حقدار نہیں لہٰذا ہائی کورٹ کا 30 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
مذکورہ ریفرنس، جس میں ملزمان کی ضمانت منسوخی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے، 8 شوگر ملز کو دی جانے والی سبسڈی سے متعلقہ ہے۔
یہ تمام شوگر ملز سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کے اومنی گروپ کی ملکیت ہیں۔
2014 اور 2015 کے کرشنگ سیزن میں مذکورہ شوگر ملز کو سندھ حکومت کی جانب سے 72 کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی دی گئی۔
نیب کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ 8 شوگر ملز کے ڈائریکٹرز، شئیرہولڈرز اور مالکان نے کین کمشنر اور اپنے سینئیر ملازمین کی ملی بھگت ملازمین ہی کو گنا اگانے والے کاشتکار ظاہر کر کے ایک جعلی فہرست جمع کرائی۔
نیب تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ اس جعل سازی کی بنیاد پر سبسڈی کی مد میں دی جانے والی رقم میں سے 34 کروڑ روپے سے زائد جعلی کاشتکاروں کے اکاؤنٹ میں منتقل کر کے کیش کرائے گئے اور پھر اسی رقم میں سے کچھ براہ راست شوگر ملز کے اکاونٹ میں منتقل کی گئی جبکہ باقی سجاول ایگرو فارمز کے اکاؤنٹ میں جمع ہو گئی۔
نیب کے مطابق تمام منصوبہ بندی پر عمل درآمد انتہائی شاطرانہ انداز میں کیا گیا اور تمام واردات اومنی گروپ کی نگرانی میں ملکیتی شوگر ملز کے ڈائریکٹرز، شئیر ہولڈرز، جنرل منیجرز، اکاؤنٹنٹ، فنانس منیجرز سمیت اعلیٰ سطحی ملازمین کے ذریعے کرائی گئی جس میں تنخواہ دار ملازمین کو دھوکہ دیکر انکا نام استعمال کیا گیا۔
دیگر ملزمان میں وحید احمد، خواجہ سلمان یونس، امان اللہ شیر، فیصل ندیم اور کاظم علی شامل ہیں جن کی ضمانت منسوخی کے لیے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔
اومنی گروپ کی زیر ملکیت 8 شوگر ملز میں لر شوگر ملز، ٹنڈو اللہ یار شوگر ملز، انصاری شوگر ملز، چیمبر شوگر ملز، باوانی شوگر ملز، خوسکی شوگر ملز، نیو دادو شوگر ملز، نوڈیرو شوگر ملز شامل ہیں۔
نیب کے مطابق ملزمان نے رقوم میں خرد برد، رقوم کو کئی سطحوں میں چھپانے کے لیے ایک سے دوسرے اکاؤنٹس میں منتقلی اور اس حوالے سے منی لانڈرنگ جیسے تمام تر غیر قانونی کاموں کو ملز کے بینیفیشل اوونرز کی ہدایت کے مطابق عملی جامہ پہنایا۔