کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عالمی سطح پر لاک ڈاؤن کے باوجود ابھی تک اس وبا پر قابو نہیں پایا جا سکا، لاک ڈاؤن کے باعث غریب، مزدور اور تارکین وطن معاشی طور پر بری طرح متاثر ہوئے۔
وباء اور اس سے جڑے لاک ڈاؤن کے بعد بھارت میں رہنے والے غریب اور مزدور طبقے کی دردناک کہانیاں اور واقعات خبروں کا حصہ بن رہے ہیں۔
ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ بھارتی شہر بہار کے ایک ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا جہاں ایک ماں بھوک، افلاس اور پانی کی قلت کے باعث موت کا شکار ہو گئی۔
بھارت میں لاک ڈاؤن سے جڑا ایک اور المیہ، 12 سالہ بچی پیدل چلتے چلتے دم توڑ گئی
بھارت میں بھوکے مزدور کی مردہ کتے کا گوشت کھانے کی ویڈیو پرشدید غم وغصہ
لاک ڈاؤن کا تصور پیش کرنے والے سائنسدان کو محبوبہ سے ملنا مہنگا پڑ گیا
وہ اتوار کو گجرات سے اپنے دو بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ ٹرین پر سوار ہوئی مگر سوموار کو ٹرین کے مظفرپور پہنچنے سے پہلے ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔
جب تک اس عورت کی لاش کو اسٹیشن سے باہر پلیٹ فارم پر لایا گیا تب تک اس کا چھوٹا بیٹا ماں کا کپڑا پکڑ کر اسے جگانے کی کوشش کرتا رہا، اسی دوران بڑے بچے نے اسے کھینچ کر پیچھے ہٹایا۔
وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ جب وہ عورت ٹرین پر سوار ہوئی تو اس وقت اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ جب اس عورت کی موت ہوئی تو اس کے اہل خانہ مظفر پور اسٹیشن پر اتر گئے۔
سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر وائرل ہونے والی وڈیو میں بچہ 23 سالہ ماں کے گرد لپٹے ہوئے کپڑا پکڑ کر کھینچتے دکھایا گیا ہے، جب کپڑا اترا تو اس کی ماں مر چکی تھی۔ اہل خانہ کے مطابق یہ عورت گرمی، بھوک اور پانی کی کمی کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔
THIS is heartbreaking! A child trying to wake up its dead mother in a railway station in #muzaffarpur, #Bihar.
They may be saved from the virus but it doesn’t matter as they’re going to die of heat, hunger & exhaustion anyways
Wish I could hug & comfort the baby???? pic.twitter.com/Cv0FEmV93l
— Murari Kumar (@iMurariKumar) May 27, 2020
مارچ کے آخر میں ہونے والے لاک ڈاؤن نے بھارت کے لاکھوں تارکین وطن کو متاثر کیا۔ وہ بے یار و مددگار اور بغیر پیسوں کے پیدل، رکشوں اور ٹرکوں پر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔
اس دوران بہت سارے اپنی منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے ہی بھوک، افلاس اور مختلف حادثات کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔