• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 18, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

بھارت کے امیر ترین شہر ممبئی میں کورونا کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال

by sohail
مئی 27, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بھارت کے شہر ممبئی میں اب تک کورونا کے 31 ہزار مصدقہ کیس سامنے آ چکے ہیں جو ملک بھر کے مریضوں کا پانچواں حصہ بنتے ہیں۔

جیسی بھی ایمرجنسی ہو، یہ شہر ہمیشہ متحرک رہتا ہے لیکن کورونا وبا نے اس صورتحال کر بدل کر رکھ دیا ہے، شہر میں سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ ہے اور طبی نظام تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔

کے ای ایم اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ گزشتہ رات انہوں نے صرف 6 گھنٹوں کے دوران کورونا کے باعث ہونے والی 15 سے 18 اموات دیکھی ہیں۔

بھارت میں بھوکے مزدور کی مردہ کتے کا گوشت کھانے کی ویڈیو پرشدید غم وغصہ

بھارت میں پیدل چلنے والی خاتون نے بچی کو جنم دینے کے بعد 160 کلومیٹر سفر طے کیا

وہ کہتے ہیں کہ میں نے زندگی میں کبھی اسقدر اموات ایک ہی شفٹ میں نہیں دیکھیں، یہ ایک طرح سے میدان جنگ ہے، ایک بیڈ پر دو سے تین مریض پڑے ہیں، کچھ فرش پر لیٹے ہوئے ہیں تو بعض کوریڈور میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس موجود آکسیجن پورٹس ناکافی ہیں اس لیے کئی مریض جنہیں آکسیجن کی ضرورت ہے، انہیں ہم فراہم نہیں کر سکتے۔

سیون اسپتال کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ آکسیجن کا ایک ٹینک دو سے تین مریضوں کو بیک وقت لگا رہے ہیں، اسپتال کے بستروں کے درمیان جگہ کم کر دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کو ان پر لٹایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ جس جگہ پر حفاظتی لباس پہنا اور اتارا جاتا ہے وہاں حفظان صحت کے اصولوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا۔

ممبئی میں پھیلی گرمی کی لہر کے باعث ڈاکٹرز حفاظتی کٹ پہنتے ہی پسینے میں شرابور ہو جاتے ہیں، دونوں اسپتالوں سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مردہ اجسام اور مریض ساتھ ساتھ پڑے ہیں جبکہ وارڈز مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

ممبئی کے ایک طبی ماہر ڈاکٹر سواتی رانے کا کہنا ہے کہ اس شہر میں دنیا کے بہترین طبی سہولیات اور ڈاکٹرز موجود ہیں لیکن یہ وبا کے لیے تیار نہیں تھا، خوابوں کا شہر اب ڈراؤنے خوابوں کا شہر بن چکا ہے۔

مختلف جزیروں سے جڑے اور بحیرہ عرب سے گھرے اس شہر میں لاکھوں لوگ روزگار اور قسمت آزمائی کے لیے آتے ہیں، اس کا گنجان آباد شہر کورونا وبا کے پھیلاؤ کا باعث بن گیا ہے۔

ڈبلیو ای ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق ممبئی دنیا کا دوسرا گنجان آباد ترین شہر ہے۔

شہر کے اسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ان ویڈیو میں نظر آنے والے حالات کئی برسوں سے اسی طرح ہیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ وبا نے آ کر لوگوں کو احساس دلایا ہے کہ صحت کا نظام بری طرح ناکارہ ہو چکا ہے۔

حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق ممبئی شہر میں 70 سرکاری اسپتال ہیں جن مین 20 ہزار 700 بیڈز جبکہ ڈیڑھ ہزار پرائیویٹ ادارے ہیں جن میں 20 ہزار بیڈز کی گنجائش موجود ہے۔

شہر میں ہر تین ہزار افراد کے لیے ایک بیڈ ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر 550 افراد کے لیے ایک بیڈ ہونا چاہیئے۔

ڈاکٹر رین نے کہا کہ مریضوں کا تمام تر بوجھ مفلوج سرکاری اسپتالوں پر ہے، پرائیویٹ اداروں نے چند بیڈز ہی کورونا کے متاثرین کے لیے مختص کیے ہیں۔

ممبئی ریاست مہاراشٹر کا دارالحکومت ہے، گزشتہ ہفتے صوبائی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پرائیویٹ اسپتال اپنے 80 فیصد وسائل کورونا مریضوں کے لیے مخصوص کریں۔

سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ہمیں فوری طور پر مدد کی ضرورت ہے، ہم بغیر چھٹی کیے کام کر رہے ہیں اور کسی بھی وقت قرنطینہ میں جانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

ایک شخص نتھیا گنیش پلائی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے والد کو سانس لینے میں تکلیف شروع ہوئی تو وہ 8 پرائیویٹ اسپتالوں میں گیا جہاں اسے جواب دے دیا گیا، آخرکار وہ انہیں سیون کے سرکاری اسپتال میں لے آیا۔

آنسو بہاتے مزدور کی تصویر بھارت میں لاک ڈاؤن سے جڑے المیوں کا استعارہ بن گئی

بھارت میں لاک ڈاؤن سے جڑا ایک اور المیہ، 12 سالہ بچی پیدل چلتے چلتے دم توڑ گئی

اس نے بتایا کہ صرف ایک سٹریچر تھا جو خون کے داغوں سے بھرا پڑا تھا، میں نے کسی طرح ایک وہیل چیئر تلاش کی اور والد کو اس پر بٹھا کر اندر لے گیا۔

پلائی کا کہنا ہے کہ عملے نے کہا میرے والد کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں بھیجنے کی ضرورت ہے لیکن وہاں بیڈ بھرے ہوئے ہیں، جب ایک ڈاکٹر انہیں دیکھنے آیا تو اس نے بتایا کہ وہ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔

چند گھنٹوں بعد ان کا انتقال ہو گیا، ان کی موت کے بعد کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ آیا جو مثبت تھا۔

اب پلائی اپنی والدہ کے ساتھ قرنطینہ میں ہے، اس کا کہنا ہے کہ ہم اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ہماری دولت اپنے پیاروں کی جان بچانے میں ناکام ہو جاتی ہے۔

شہر کی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات اربوں ڈالرز میں چلے گئے ہیں لیکن کورونا کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔

ممبئی کے ڈاکٹر راہول گھولے کا کہنا ہے کہ ہم نئے اسپتال تعمیر کرتے جائیں گے اور وہ ایک ہی دن میں بھرتے جائیں گے، جب تک کورونا کے پھیلاؤ کا مرکز تلاش نہیں کر لیا جاتا ہمیں مہینوں لاک ڈاؤن میں رہنا پڑے گا۔

اب مون سون کا موسم قریب آ رہا ہے جس میں ملیریا، تپ محرقہ، گیسٹرو اور لیپٹوسائروسیس جیسی بیماریاں پھیلنے لگتی ہیں، بارشوں کے موسم میں اسپتالوں کے عملے پر مزید بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔

Tags: بھارت میں‌ کورونا وائرسکورونا وائرسممبئی میں کورونا کی تباہ کاری
sohail

sohail

Next Post

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو بند کر دینے کی دھمکی کیوں دی؟

بھارت میں لاک ڈاؤن: مردہ ماں کو جگانے کی کوشش کرنے والے بچے کی ویڈیو نے دل دہلا دیے

کورونا پر فتح حاصل کرنے والا جنوبی کوریا ایک مرتبہ پھر وائرس کے نشانے پر

سابق ممبر پنجاب اسمبلی سردار عاطف مزاری بیٹے کے ہاتھوں قتل

آصف زرداری کے قریبی ساتھی نے سندھ حکومت سے کروڑوں روپے بٹور لیے، نیب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In