• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, مئی 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

نیب کو عمران خان کنٹرول کر رہے ہیں، اس ادارے کو ختم کر دینا چاہیئے، شاہد خاقان عباسی

by sohail
مئی 27, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر ملک کو چلانا ہے تو پھر نیب کو ختم کر دیں۔ گزشتہ 20 برسوں میں نیب نے کیا احتساب کیا ہے یہ بتا دیں، اپنی رپورٹ شائع کریں کہ کس پبلک آفس ہولڈرکو پکڑا ہے؟ پرویز مشرف نے تین ہفتوں میں نیب آرڈیننس بنایا تھا جس کا مقصد سیاستدانوں کو دبانا اور توڑنا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ نیب 100 فیصد وزیراعظم عمران خان کے کنٹرول میں ہے، اس بات کے شواہد میں چار سے پانچ سال کے بعد بتاؤں گا۔

چیف جسٹس کی تنخواہ وزیر اعظم سے کتنی زیادہ ہے؟

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سیاستدان اپنی تنخواہ بھی نہیں بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان میں وزیر اعظم سے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تنخواہ دس گنا زیادہ ہے، وزیر اعظم کی تنخواہ ایک لاکھ 35 ہزار روپے ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ وائٹ کالر کرائم کا ونگ بنائیں اور نیب کو ایف آئی اے میں ضم کر دیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ انہیں ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیاء کی رپورٹ پر اعتماد نہیں ہے اور نہ ہی نیب یا ایف آئی اے پر اعتماد ہے، اس کا حل یہ ہے کہ آزاد اور خودمختار لوگ لگائے جائیں تاہم ان چیزوں پر وقت لگے گا۔

انہوں نے چیلنج کیا کہ ایف آئی اے کا کوئی سربراہ لے کر آ جائیں جسے ہم نے کوئی غلط بات کی ہو، آئی بی کا سربراہ لے کر آ جائیں جس سے ہم نے کوئی غلط کام کرایا ہو؟

نیب لائیو ٹرائل دکھائے

شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب کیمرہ لگا کر تفتیش کرے اور پاکستانی عوام کو دکھائیں کہ کتنے کرپٹ لوگ ہیں، اس کی تفتیش پاکستانی عوام کو براہ راست دکھائیں پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ نیب کیا ہے، ہمارے دور حکومت میں نیب قوانین میں ترمیم پر اتفاق نہیں ہوا، پی ٹی آئی کو اتفاق رائے مل رہا ہے انہیں چاہیئے کہ یہ ترمیم کر لیں۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کورونا سے پہلے ہی پاکستان کی معیشت بیٹھ گئی تھی۔

سابق وزیراعظم نے نیا کمیشن بنانے کا مطالبہ کیوں کر دیا؟

شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کمیشنوں کا سیزن ہے تو کیوں نہ ایک کمیشن بٹھا دیں کہ ہمارے دور حکومت میں کتنی ایکسپورٹ تھی اور پی ٹی آئی کے دور حکومت میں کتنی ایکسپورٹ ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 10 سب سے زیادہ ٹیکس دینے والوں پر نیب کے کیسز ہیں، پھر آپ کہتے ہیں کہ ملک کیسے چلے گا۔ نیب کے خوف کی وجہ سے کوئی سرمایہ کاری کرتا ہے نہ ہی بیورو کریسی کوئی فیصلے کرتی ہے۔ نیب کو بند کر دیں تو اچھا ہے۔

پارلیمنٹ کو کس نے مفلوج کر دیا ہے؟

سابق وزیر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میں اکتوبر 2018 میں اسمبلی میں آیا تھا اور میں نے پہلے ہفتے ہی کہا تھا کہ یہ اسمبلی نہیں چلے گی۔ پچھلی اسمبلی لنگڑی لولی جیسی بھی تھی چلتی تھی۔ اسپیکر اور حکومت نے جان بوجھ کر پارلیمنٹ کو مفلوج کر دیا ہے۔ یہ پارلیمنٹ مفلوج ہے اسے بھی بند کر دیں تو بہتر ہے۔

میزبان معید پیرزادہ نے ان سے سوال کیا کہ پہلے آپ نیب کو اور اب پارلیمنٹ کو بند کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو چیز فضول ہو اس کا فائدہ کوئی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ دیکھیں اب تک کتنی تحریک التوا آئی ہیں؟ ہمارے دور حکومت میں پوائنٹ آف آرڈر پر ایشوز اٹھائے جاتے تھے۔ اپوزیشن کے پندرہ ممبران بولتے تھے تو ایک وزیر ان کا جواب دیتا تھا۔

انہوں نے نیب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نیب پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ ہےاور اس کا مقصد سیاستدانوں کو دبانا ہے، عید کے بعد نیب میں کیا تیزی آئے گی؟ گرفتاریاں پہلے بھی کر چکے ہیں مگر کیس ایک بھی نہیں بنا۔ ریلوے کے وزیر کی جانب سے گرفتاریوں کی بات کرنا اس بات کی شہادت ہے کہ حکومت ملی ہوئی ہے۔

غلام سرور خان کو نیب نے کیوں بلوایا ہے؟

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ غلام سرور خان 1985 سے سیاست میں ہیں، اگر کرپشن کی ہوتی تو پہلے کسی نے کیوں بات نہیں کی؟ غلام سرور خان نے ایسی کوئی بات کی ہو گی جو حکمرانوں کو پسند نہیں آئی ہو گی اس لیے ان کو بھی نیب نے بلوا لیا ہےاور ان کی بدنامی شروع کر دی گئی ہے۔

نیب کون سے اسکینڈلز پر کارروائی نہیں کر رہا ہے؟

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب نے کچھ کرنا ہے تو چینی، گندم اور دوائیوں کے اتنے بڑے اسکینڈلز موجود ہیں ان پر کوئی کارروائی کرے۔

چینی رپورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ چینی اسکینڈل پر دو صفحے کی رپورٹ ہوتی تو بات ختم ہو جاتی۔ دو صفحے کی رپورٹ چاہئے تھی 347 صفحوں پر مشتمل رپورٹ اس لیے ہے تاکہ اصل ایشو سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ نیب از خود نوٹس لے سکتا ہے خاموش کیوں ہے؟

شوگر انکوائری پر کمیشن کیوں بنایا گیا تھا؟

شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا گیا کہ 2 ارب کی سبسڈی موجودہ حکومت نے دی ہے جبکہ 27 ارب کی سبسڈی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے مل کر دی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی گرفتار کر لیں۔ دو ارب والوں کو کرلیں اور27 ارب والوں کو بھی کر لیں۔ کمیشن بنانے کا مقصد یہ تھا کہ معلوم کیا جائے کہ چینی کی قیمت کیوں بڑھی ہے؟ ایکسپورٹ کی اجازت ٹھیک دی گئی یا غلط دی گئی؟ ایکسپورٹ کی اجازت اگر ٹھیک تھی تو پھر پاکستان میں چینی کی قیمت میں اضافہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔

شوگر ایکسپورٹ پر وفاقی حکومت نے سبسڈی کیوں نہیں دی؟

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے کوئی سبسڈی نہیں دی کیونکہ ہم نے منع کر دیا تھا۔ میرے دور حکومت میں وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ صوبائی معاملہ ہے اس لیے سبسڈی دینی ہے تو صوبے دیں۔

پنجاب حکومت نے شوگر ایکسپورٹ پر سبسڈی کیوں دی؟

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس وقت سبسڈی دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ روپے کی قدر میں کمی آ چکی تھی اور سبسڈی کے بغیر بھی ایکسپورٹ ممکن تھی مگر اس کے باوجود پنجاب حکومت نے ڈھائی ارب روپے کی سبسڈی دے دی۔ من پسند لوگوں کو سبسڈی دی گئی، جن ملوں کو سبسڈی نہیں دی گئی انہوں نے بھی چینی ایکسپورٹ کی۔ سندھ کی شوگر ملز نے بغیر سبسڈی کے شوگر ایکسپورٹ کی۔ خیبر پختونخوا کی شوگر ملز نے بھی بغیر سبسڈی کے چینی ایکسپورٹ کی لیکن صرف پنجاب نے ڈھائی ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں پیش ہوا تھا اور یہ ساری باتیں کی تھیں مگر شاید انہوں نے میری بات کو سمجھنا نہیں تھا۔ شاہد خاقان نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمت اس لیے بڑھی تھی کہ ایکسپورٹ کی اجازت دی گئی۔

پارلیمنٹ کو پی ٹی وی پر لائیو کس نے کیا تھا؟

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میں نے پارلیمنٹ کو پی ٹی وی پرلائیو کیا تھا، اب یہ صورتحال ہے کہ جب کوئی حکومتی وزیر بات کرتا ہے تو پی ٹی وی پر چلا دیتے ہیں اور جب کوئی اپوزیشن والا بات کرتا ہے تو اسے پی ٹی وی پارلیمنٹ پر دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر آپ نے اسمبلی چلانی ہے تو رولز کے مطابق چلائیں۔

پی آئی اے کے طیارے کے حادثے کا کون ذمہ دار ہے؟

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ فلائنگ میں ہمیشہ رسک رہا ہے، آج بھی رسک ہے اور اس کے بعد بھی رہے گا۔ یہ رسک فری نہیں ہے۔ انسانوں سے غلطی ہونے کا امکان ہوتا ہے چاہے وہ مینٹینس والے ہوں یا پھر جہاز چلا رہے ہوں۔ حالیہ سانحہ بہت افسوس ناک ہے۔ جہاز بالکل ٹھیک تھا جو شواہد ابھی تک آئے ہیں اس کے مطابق جہاز میں کوئی خرابی نہیں تھی۔

Tags: شاہد خاقان عبادیشوگر اسکینڈلقومی احتساب بیورو
sohail

sohail

Next Post

بھارت کے امیر ترین شہر ممبئی میں کورونا کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو بند کر دینے کی دھمکی کیوں دی؟

بھارت میں لاک ڈاؤن: مردہ ماں کو جگانے کی کوشش کرنے والے بچے کی ویڈیو نے دل دہلا دیے

کورونا پر فتح حاصل کرنے والا جنوبی کوریا ایک مرتبہ پھر وائرس کے نشانے پر

سابق ممبر پنجاب اسمبلی سردار عاطف مزاری بیٹے کے ہاتھوں قتل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In