عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے علاج میں ممکنہ طور پر استعمال ہونے والی ملیریا کی دوا ہائڈروکسی کلورو کوئین پر کئے جانے والے تجربات روک دیے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ
ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دوا مریضوں میں دل کے مسائل پیدا کر سکتی ہے جس سے اموات میں اضافے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے طبی جریدے لانسٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ہائڈروکسی کلوروکوئین کا استعمال کورونا سے متاثرہ افراد کے علاج میں معاون ثابت نہیں ہوا، مزید یہ کہ اس کے استعمال سے اسپتال میں داخل مریضوں کی اموات میں کمی کے بجائے اضافہ ہو سکتا ہے۔
ملیریا کی گولیاں مودی، ٹرمپ بندھن مضبوط کرنے کا باعث بن گئیں
پنجاب کے مختلف اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں پر ملیریا کی دوا کا استعمال شروع
کورونا وائرس کا علاج: کیا ملیریا کی دوا ’کلوروکوئن‘ گیم چینجر ہے؟
کلوروکوئین کا استعمال ملیریا سمیت لوپس یا آرتھرائٹس جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے محفوظ ہے۔ لیکن طبی تجربات اس دوا کو کورونا وائرس کے علاج میں استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
لانسٹ کی اس تحقیق میں 96 ہزار کورونا وائرس سے متاثرہ افراد پر تجربہ کیا گیا جن میں سے تقریباً 15 ہزار مریضوں کو صرف ہائڈروکسیکلوروکوئین دی گئی یا اینٹی بائیوٹک کے ساتھ یہ دوائی دی گئی۔
اس تحقیق سے پتہ چلا کہ اسپتال میں ایسے مریضوں میں اموات کی شرح ان مریضوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جن کو کلوروکوئین دی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ اس دوا کے استعمال سے ان مریضوں کے دل کی دھڑکن میں پیچیدگیاں بھی سامنے آئیں۔
اس کے بعد محققین نے خبردار کیا کہ طبی تجربات کئے بغیر ہرگز اس دوا کا استعمال نہ کیا جائے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار اس دوا کو پروموٹ کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اسے ہر روز احتیاطی تدابیر کے طور پر خود بھی استعمال کر رہے ہیں۔
پنجاب کے اسپتالوں میں بھی یہ دوائی مریضوں کو دی جا رہی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی وارننگ کے بعد اسے روک دیا جاتا ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 55 لاکھ ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 3 لاکھ 50 ہزار کے لگ بھگ ہیں۔