سعودی عرب کے ٹاپ انٹیلی جنس آفیسر اور آرٹیفشل انٹیلی جنس ماہر سعد الجبری نے القاعدہ کے خلاف لڑائی اور امریکہ کے ساتھ روابط میں بھرپور کردار ادا کیا، تاہم اب انہوں نے 2017 ء سے کینیڈا میں روپوشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ان کے بیٹے اور قریبی دوستوں کے مطابق ان کی جان کو خطرہ ہے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان کی سعودی عرب واپسی کے لیے شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔
سعودی حکومت کا یہ دباؤ اب الجبری کے خاندان تک جاپہنچا ہے۔ مارچ سے الجبری خاندان کے دوبیٹے اور ایک بھائی سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز کی حراست میں ہیں۔
جیل میں قید سعودی بادشاہ کی بھتیجی کا اپنی رہائی کے لیے خط سامنے آ گیا
مقتول صحافی جمال خشوگی کے بیٹوں نے اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کر دیا
ڈاکٹر خالد الجبری، جو خود بھی کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں، نے نیویارک ٹائمز کے رپورٹر کو بتایا کہ کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود انہیں معلوم نہیں کہ وہ سب کہاں ہیں، انہیں بیڈ روم سے گرفتار کیا گیا اور معلوم نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں ہیں۔
تاہم سعودی حکام نے ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کی۔ 2018ء میں ناراض سعودی مصنف جمال خشوگی کے استنبول میں ہونیوالے قتل کے بعد الجبری جیسے کردار خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔
الجبری کے بیٹے اور سابق امریکی حکام کے مطابق سعودی شہزادہ محمد بن سلمان، الجبری پر دباؤ بڑھا کر انہیں سعودی عرب واپسی کے لیے مجبور کررہے ہیں کیونکہ انہیں الجبری کے پاس موجود خفیہ رازوں کے افشاء ہونے کا خدشہ ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر گیرلڈ ایم فیرسٹین کا خیال ہے کہ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی ان کے کنٹرول سے باہر ہو وہ گھبرا جاتے ہیں۔ گیرلڈ ایم فیرسٹین نے یمن میں بطور امریکی سفیر الجبری کے ساتھ کام کیا ہے۔
بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ الجبری سعودی عرب پر حکمرانی کے لیے دو شہزادوں کے درمیان ہونیوالی لڑائی کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی سعودی شہزادہ محمد بن سلمان پر کھل کر تنقید نہیں کی تاہم کہا جاتا ہے کہ وہ ولی عہد کے منصب کے لیے ایم بی ایس کے مخالف محمد بن نائف کے قریبی سمجھے جاتے تھے۔
شہزادہ محمد بن نائف جو سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے سربراہ تھے، انہیں مارچ میں حراست میں لیا گیا، ان پر الزام ہے کہ وہ نجی محفلوں میں شہزادہ محمد بن سلمان کے طرز حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔
مسٹر الجبری نے یونیورسٹی آف ایڈنبرگ سکاٹ لینڈ سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور 4 دہائیوں تک سعودی عرب کی وزارت داخلہ میں فرائض انجام دیتے رہے اور اس دوران میجر جنرل کے رینک پر فائض ہوئے۔
وہ شہزاد ہ محمد بن نائف کے دست راست سمجھے جاتے ہیں جنہیں کنگ سلمان کی جانب سے کابینہ کی سطح کی پوزیشن پربھی تعینات کیا گیا۔
انہیں انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا اور وہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے انٹیلی جنس حکام کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مسٹر الجبری نے سعودی عرب کے کئی اہم سکیورٹی معاملات میں کلیدی کردار نبھایا جس میں القاعدہ کیخلاف لڑائی اور سعودی آئل تنصیبات کی حفاظت جیسے معاملات شامل ہیں۔
سعودی عرب میں پابندیوں کا خاتمہ اور ملازمت کی تلاش میں نکلی خواتین کا سیلاب
سعودی ڈراموں میں اسرائیل کے متعلق مثبت گفتگو نے سوشل میڈیا پر بھونچال برپا کر دیا
دو لوگوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ مسٹر الجبری پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی حیثیت کو ذاتی دولت اکٹھی کرنے کے لیے استعمال کیا اور اب سعودی شہزادہ یہ رقم واپس چاہتا ہے۔
سعودی حکام نے مسٹر الجبری کیخلاف کسی بھی طرح کے بدعنوانی کے الزامات پبلک نہیں کیے۔
الجبر ی کو 2015ء کے آخر میں شاہی حکم نامہ کے ذریعے وزارت داخلہ کی پوزیشن سے ہٹایا گیا جس کا علم انہیں ٹی وی کے ذریعے ہوا تھا۔
Informative