کراچی ایئرپورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہونے والی پی آئی اے کی پرواز میں معجزاتی طور پر بچ جانے والے پنجاب بینک کے صدر ظفر مسعود کے خاندان کا تعلق بھارت کے شہر امروہا سے ہے اور وہ پاکیزہ فلم سے شہرت پانے والے کمال امروہی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس حادثے میں ظفر مسعود کی کولھے اور کالر کی ہڈی ٹوٹی ہے اور وہ جھلسنے سے بھی محفوظ رہے ہیں۔
ان کے رشتہ دار عادل ظفر، جو امروہا میں رہتے ہیں، نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ ظفر مسعود کا خاندان 1952 میں پاکستان منتقل ہوا تھا۔
پی آئی اے کے آن لائن بکنگ کے نظام میں خرابی کے باعث ایک نوجوان کی جان بچ گئی
کراچی: مسافر طیارے کے حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 97 ہوگئی
عادل دستاویزی فلمیں تیار کرتے ہیں، وہ مسعود ظفر کی والدہ شہناز سعید کے چچازاد بھائی ہیں، انہوں نے 2015 میں پنجاب بینک کے صدر سے کراچی میں ملاقات بھی کی تھی۔
عادل نے بتایا کہ ظفر مسعود کو بھارت جا کر اپنا آبائی علاقہ دیکھنے کا بہت شوق ہے، ان کا کہنا تھا کہ مسعود کی زندگی کا محفوظ رہنا ایک معجزہ اور عید سے قبل سرحد کے دونوں پار بسنے والے خاندانوں کے لیے اللہ کا تحفہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے حادثے کی خبر سنتے ہی اپنے خاندان والوں کو اس بارے مطلع کیا، ہم تمام شدید صدمے کا شکار تھے کیونکہ مسعود بھی اسی طیارے میں سفر کر رہے تھے۔
عادل نے بتایا کہ یہ ایک تباہ کن حادثہ تھا اور پھر ہمیں خبر ملی کہ دو افراد معجزاتی طور پر محفوظ رہے ہیں اور ان میں سے ایک مسعود ظفر بھی تھے۔
کمال امروہی کے بیٹے تاجدار امروہی نے ان کی جان بچ جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر خصوصی کرم تھا کہ وہ اس قدر خوفناک حادثے میں محفوظ رہے ہیں۔
انہوں نے خاندان کے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ رئیس امروہی اور تقی امروہی، کمال امروہی کے چچا زاد بھائی تھے، تقی امروہی پاکستان نے معروف اخبار جنگ میں چیف ایڈیٹر رہے ہیں، ظفر مسعود ان کی نواسے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسعود ظفر کے دادا مسعود حسن ایک وکیل تھے اور ان کے والد منور سعید پاکستانی ٹی وی انڈسٹری کے معروف اداکار تھے۔
مسعود ظفر کی والدہ نے 2014 میں بھارت کا سفر کیا تھا اور وہ وہاں ایک ماہ تک رہیں تھیں تاہم پاک بھارت تعلقات خراب ہونے کے باعث ان دونوں خاندانوں کا آنا جانا رک گیا۔
دونوں خاندان مشہور صوفی سید حسین سرف الدین شاہ ولایت کی اولادیں ہیں جن کی درگاہ امروہہ میں ہے اور بچھو والی درگاہ کے نام سے مشہور ہے۔