اس وقت دنیا عدم استحکام، پریشانی اور غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے، کورونا وباء نے دنیا کا نظام بدل کر رکھ دیا ہے، اکثر ممالک اس کی وجہ سے بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، تاہم مختلف ممالک کے حکمران، سیاستدان جو اس وباء کا بہتر انداز سے مقابلہ نہ کرسکے وہ اس کا ملبہ اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں پر گرا کر انہیں قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں مسلما نوں کو کورونا وباء کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ قرار دیا گیا، وباء کے ابتدائی دنوں میں بھارتی سیاستدانوں اور میڈیا نے انہیں نشانہ بنایا اور اس ملک میں بسنے والے 200 ملین مسلمانوں کو کورونا وباء کے پھیلاؤ کی وجہ قرار دیکر ان کی زندگیاں اجیرن کر دیں۔
ایک طرف بی جے پی نے کورونا دہشت گردی کو مسلمانوں کے نام کے ساتھ نتھی کر دیا تو دوسری جانب بھارتی میڈیا نے بھی مسلمانوں کیخلاف محاذ بنانے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا اور ٹی وی شوز کے ساتھ اخبارات میں مضامین شائع کیے گئے۔
اسلامو فوبیا، متحدہ عرب امارات میں ایک اور بھارتی شہری ملازمت سے فارغ
کورونا وبا اور تبلیغی جماعت : بھارت میں مسلمانوں کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنانے کا انکشاف
بھارت کے بعد اب سری لنکا بھی اسلامو فوبیا کا شکار ہو گیا ہے۔ مختلف مذاہب اور اقوام کے ملک سری لنکا نے کورونا وائرس کے دوران ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے مسلمان کمیونٹی براہ راست متاثر ہوئی ہے۔
جب کورونا وباء سری لنکا پہنچی تو غیر متوقع طور پر حکمران جماعت سے وابستہ سیاستدانوں اور میڈیا کے اداروں نے مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، سری لنکا میں مسلمان کل آبادی کا 10 فیصد ہیں جبکہ اکثریت بدھ مت مذہب کے ماننے والوں کی ہے۔
بھارت کی طرح سری لنکا کے شہریوں کو متنبہ کیا گیا کہ وہ مسلمان دکانداروں سے کھانے پینے کی اشیاء نہ خریدیں۔
اپریل میں سری لنکن حکومت نے کورونا وائرس کا شکار ہونیوالوں کو دفنانے سے قبل میت سوزی (مردہ کو جلانا) لازمی قرار دیا ہے جو مرنیوالوں کو دفن کرنے کی اسلامی روایت کے منافی ہے۔
اس اقدام سے نہ صرف مسلمانوں کو بنیادی مذہبی حق سے محروم کر دیا گیا بلکہ اس سے وسیع پیمانے پر یہ ثاثر بھی پیدا ہوا کہ مسلمانوں کی مذہبی رسومات وائرس کے پھیلاؤ میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
اسلام مردوں کے احترام کا بھی درس دیتا ہے، ساتھی مسلمان کی وفات کے بعد مسلمان چار فرائض سر انجام دیتے ہیں جن میں میت کو غسل دینا، صاف ستھرے کفن میں لپیٹنا، نماز جنازہ کی ادائیگی چاہے اس میں چند افراد شریک ہوں اور قبر میں دفن کرنا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن حکومت کی جانب سے میت سوزی کے فیصلے کو براہ راست مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور اسلاموفوبیا قرار دیا گیا ہے کیونکہ ابھی تک سائنسی طور پر یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ مردہ کے دفنانے سے کورونا وائرس پھیل سکتا ہے۔