ترکی میں سعودی سفارتخانے میں قتل ہونے والے صحافی جمال خشوگی کے بیٹوں نے قاتلوں کو معاف کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ان کے بیٹے صلاح خشوگی نے ٹویٹر پر ایک بیان پوسٹ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہید جمال خشوگی کے تمام بیٹے یہ اعلان کرتے ہیں کہ جنہوں نے ہمارے والد کو قتل کیا تھا ہم انہیں معاف کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ایسا کیا ہے اور اسی سے ہی صلے کی تمنا رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقدس مہینے کی اس بابرکت رات کو ہم وہ آیات دہراتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جس نے ایک شخص کو معاف کیا اور اس کے ساتھ مفاہمت کی تو اس کا اجر اسے اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔
جمال خشوگی مرحوم کے چار بیٹے ہیں جنہوں نے مشترکہ بیان میں اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کرنے کا کہا ہے۔
جمال خشوگی کا قتل
جمال خشوگی سعودی نژاد امریکی باشندے تھے جو معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ منسلک تھے، وہ 2 اکتوبر 2018 کو ترکی میں واقع سعودی سفارتخانے میں داخل ہوئے تاکہ وہ اپنی ترک منگیتر کے ساتھ شادی کے لیے ضروری کاغذات حاصل کر سکیں۔
ان کی سفارتخانے سے کبھی واپسی نہ ہوئی اور بعد ازاں یہ الزام سامنے آیا کہ سعودی حکومت کے حکم پر انہیں قتل کر دیا گیا ہے، ان کا جسم آج تک سامنے نہیں آیا۔
ترک حکومت نے اپنی تحقیقات شروع کیں اور 25 مارچ کو 20 مشتبہ افراد پر قتل کا الزام عائد کیا، پراسیکیوٹر نے سعودی عرب کے ڈپٹی انٹیلیجنس چیف احمد الاثیری اور سعودی شاہی عدالت کے سابق مشیر سعود القحطان کو مورد الزام ٹھہرایا