وباؤں کو شہر مخالف کہا جاتا ہے کیونکہ یہ انسانوں کی قربت اور مل جل کر رہنے کی خواہش کا شکار کرتی ہیں۔ وباؤں میں ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہم بھیڑ کی صورت میں جمع نہیں ہوسکتے۔
شہروں میں عوامی مقامات کو بند کرنا پڑتا ہے۔ عبادت کی جگہیں بند، اسکول اور دیگر اداروں کی بندش بھی ان پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے۔ ان سے شہریوں کے مرنے کے ساتھ ساتھ شہروں کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
بھارت میں لاک ڈاؤن سے دنیا کی آلودہ ترین فضائیں صاف ہو گئیں
کورونا کس طرح انسانی جسم کو تباہ کرتا ہے؟ ایک برطانوی ڈاکٹر کے مشاہدات
امریکی شہروں میں مقیم 40 فیصد نوجوانوں نے شہر چھوڑ نے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کی وجہ سے 40 فیصد نوجوانوں نے شہر چھوڑ کر کم آبادی والے مضافاتی علاقوں میں جانے کے ارادہ کا اظہار کیا ہے۔ امریکی شہر نیویارک کی 5 فیصد آبادی نے شہر چھوڑ دیا ہے۔ 4 لاکھ 20 ہزار لوگ شہر کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔
ماضی میں بھی وباؤں کے باعث لوگ شہروں کو چھوڑ چکے ہیں۔ شہروں سے موجودہ نقل مکانی کو عارضی قرار دیا جا رہا ہے مگر اس خدشہ کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ شہروں کو چھوڑنے کا یہ عمل مستقل ہوسکتا ہے اور وبا کی موجودگی میں اس میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
امریکی شہر نیویارک کورونا وائرس کا گڑھ بنا تو بہت سے حکومتی حکام اور طبی ماہرین نے زیادہ آبادی کو بیماری میں اضافہ کی وجہ قرار دیا۔ نیویارک شہر میں ایک مربع میل میں رہاشیوں کی تعداد 28 ہزار بنتی ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔
اسٹینڈرڈ یونیورسٹی میں وبائی امراض کے ماہرِ ڈاکٹر سٹیون گڈمین کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ آبادی والے مراکز میں لوگوں کا ایک دوسرے سے آمنا سامنا زیادہ ہوتا ہے جس سے بیماری تیزی سے پھیلتی ہے۔
نیویارک کے گورنر انڈریو کومو کا بھی یہی کہنا ہے کہ شہر میں لوگوں کی بڑی تعداد جو ایک دوسرے کے اس قدر قریب رہتی ہے وبا کے تیزی سے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
مگر چند امریکی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑی آبادی کے باعث بیماری کے زیادہ پھیلنے کے الزام کی جانچ نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایشیاء کے شہروں کی فی میل آبادی بہت زیادہ ہونے کے باوجود وبا اس قدر نہیں پھیلی جیسے نیویارک میں۔ اسی طرح چند کم آبادی کی حامل جگہیں بھی وبا سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی جگہ بیماری کے تیزی سے پھیلنے کی وجوہات میں گھر کے افراد کی زیادہ تعداد، غربت، معاشی تقسیم جیسی وجوہات کا بھی کردار ہوتا ہے۔
کیا لوگ ابھی بھی شہروں میں رہنا چاہیں گے؟
کورونا وبا سے پہلے ہی امریکی شہروں کی کشش کم ہورہی تھی۔ اس کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ شہروں میں گھروں کے بہت زیادہ کرائے تھے۔ بروکنگز انسٹیٹیوشن کے مطابق گزشتہ چند برس میں امریکہ کے تین بڑے شہروں نیویارک، لاس اینجلس اور شکاگو کی آبادی میں کمی ہوئی ہے۔
وبا کے باعث شہروں کو چھوڑ جانے کے اس عمل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے فنِ تعمیر کے نقاد مائکل کمل مین نے لکھا ہے کہ کورونا وبا نے شہری زندگی کی بنیاد پر حملہ کیا ہے۔ شہر معاشی اور صنعتی وجوہات کے باعث ہزاروں برس پہلے پھلے پھولے تھے مگر وبا کے باعث ہمیں سماجی دوری اپنانا پڑی ہے جس سے ان معاشی اور صنعتی وجوہات پر کاری ضرب پڑی ہے۔
یورپ میںلاک ڈاؤن کے باعث کرہ ارض کی سانسیں بحال ہونے لگیں
برطانیہ کا سب سے بڑا شکاری پرندہ 240 سال بعد ملکی فضاؤں میں لوٹ آیا
وبا ختم ہو بھی جاتی ہے تو شہروں کو پرانی ڈگر پر واپس آنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں کیونکہ اس سے کئی ریستوران اور دیگر کاروبار ختم ہو رہے ہیں۔ امریکی ماہرین کے مطابق کورونا وبا 75 فیصد ریستوران ختم کر سکتی ہے۔ ریستورانوں کے بغیر شہر وں میں رہنے کی کشش کم ہو جاتی ہے۔ اس سے زیادہ لوگ شہر چھوڑ سکتے ہیں۔
اسی طرح وبا کے باعث کئی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ٹویٹر نے تو ملازمین کو تاحیات گھروں سے کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اب ایسے حالات میں معاشی طور پر شہروں میں رہنے کی چاہت بھی کم ہوسکتی ہے۔
مگر چند ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کے آنے سے سب کچھ پہلے جیسا ہوجائے گا اور لوگوں کی شہروں میں رہنے اوردفاتر سے کام کرنے کی خواہش شہری زندگی کو معمول پر لے آئے گی۔
کورونا وبا شہری زندگی کو نیا جنم بھی دے سکتی ہے۔ شہروں کو وبا کے بعد سنبھلنے کیلئے کرایوں کے بحران پر قابو پانا ہوگا۔ اس کے علاوہ دیگر مسائل جیسا کہ ٹرانسپورٹیشن میں بھی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔ وبا کے بعد نیا جنم لینے کیلئے شہروں کو خود کو زیادہ صحت مند بنانا ہوگا۔
ڈیرک تھامسن نے ’دی اٹلانٹک‘ میں لکھا ہے کہ اگر ہم شہروں کی درست تعمیرنو کریں توراکھ سے نیا جنم ہوگا، زوال سے تعمیر نو ہوگی۔