وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس اج ہو گا جس میں ملک کے بڑے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کے منصوبے پر غور کیا جائے گا۔
وفاقی کابینہ نے 29 اکتوبر 2019 کو ایوی ایشن ڈویژن کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ حالیہ "اظہار دلچسپی” کی دستاویز سرمایہ کاری بورڈ کے ساتھ شیئر کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ مجوزہ مراعاتی ڈھانچہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مناسب کشش رکھتا ہے۔
وفاقی کابینہ نے ایوی ایشن ڈویژن کو مزید ہدایت کی تھی کہ اس کام کو دو ہفتوں میں مکمل کیا جائے۔
کابینہ کے اس فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے 21 نومبر 2019 کو وزیر ہوابازی نے، گرانٹ میں رعایت سے متعلق آپریشن، منیجمنٹ اینڈ ڈیویلپمنٹ ایگریمنٹ اور ائیرپورٹ سروسز لائسنس کے حوالے سے ‘اظہار دلچسپی’ کی دستاویز کو چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ کے ساتھ شیئر کیا۔
انھیں بتایا گیا کہ فروری 2017 اور فروری 2018 کے دوران اس منصوبے کی چار بار تشہیر کی گئی۔ متعدد شہرت یافتہ بین الاقوامی ائیرپورٹ آپریٹرز نے دلچسپی ظاہر کی تھی تاہم بولی دہندگان کو ریاست پاکستان کی ضمانت کے ضمن میں چند شرائط منظور نہیں تھیں اس لیے کوئی بھی بولی کامیاب نہیں ہو سکی۔
نتیجتاً سرمایہ کاری بورڈ اور ایوی ایشن ڈویژن کے نمائندوں پر مشتمل ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا تاکہ ملک کے بڑے ہوائی اڈوں کی خدمات کو ٹھیکے پر دینے کے عمل اور طریقہ کار کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے۔
جوائنٹ ورکنگ گروپ نے اپنے ابتدائی اجلاس میں آؤٹ سورسنگ کے درج ذیل فوائد پر بات کی۔
1: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تجارتی امکانات سے مکمل استفادہ کیلئے بین الاقوامی تجربہ اور مہارت مہیا ہو گا۔ اسی طرح ائیرپورٹ پر ڈیوٹی فری شاپس، ریسٹورانٹس، کمرشل آؤٹ لیٹس اور اس سے منسلک تمام غیر فضائی خدمات دنیا کے کسی بھی بڑے ہوائی اڈے سے موازنہ کے قابل ہو سکیں گی۔
2: بین الاقوامی آپریٹرز کی ساکھ اور نیک نیتی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ آپریشن اور انتظامیہ کے فضائی اور غیر فضائی اثاثوں اور ائیر لائن کے آپریشن وغیرہ کو انڈسٹری کے بہترین معیار کے مطابق بنایا جا ئے۔
3: شعبہ ہوابازی میں سرمایہ کاری سے پرائیویٹ سرمایہ کاروں کا متعلقہ تجارتی منصوبوں میں اعتماد بحال ہوگا جس سے بہت سارے با صلاحیت نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملے گے۔
بزنس ریکارڈر میں شائع مشتاق گھمن کی خبر کے مطابق متعدد میٹنگز کے بعد جوائنٹ ورکنگ گروپ میں درج ذیل نکات پر اتفاق رائے ہوا۔
1: مسافروں کے ٹرمینل پر سی سی اے کے فرائض کو ایک لائسنس کے تحت دنیا کے بہترین آپریٹرز کو ٹھیکے پر دینے کے لیے آر ایف پی تیار کیا جائے گا۔
2: پیپرا رولز اور سی اے اے کی لینڈ لیز 2019 کی پالیسی کے مطابق فضائی اور غیرفضائی مقاصد کے لیے زمین کے استعمال کو آر ایف پی میں شامل کیا جائے گا۔
3: کسی معروف مالیاتی فرم سے سی اے اے اس آر پی ایف کی مکمل جانچ پڑتال کرائے گی۔
4: اخبارات میں مشتہر کرنے سے پہلے اس کی سمری وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو پیش کی جائے گی۔
4: اسلام آباد ایئرپورٹ میں مسافروں کی سالانہ تعداد کو دگنا کر کے 90 لاکھ تک لے جانے کی صلاحیت موجود ہے، یہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش تعداد ہے اس لیے اسلام آباد ایئر پورٹ کو ماڈل کے طور پر رکھا جائے گا۔
لاہور اور کراچی کے ایئرپورٹس میں تجارتی مراعات پہلے ہی 5 برس کے لیے ٹھیکے پر دی جا چکی ہیں۔
پی آر ایف کو قواعد کے مطابق ایک اہم فرم کی مشاورت سے تیار کیا گیا اور متعدد اجلاسوں کے بعد تمام نکات پر اتفاق کیا گیا۔