کورونا وائرس نے دنیا بھر کی معیشتوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ جس معیشت کی ساڑھے تین فیصد ترقی کی باتیں ہو رہی تھیں اب اس کے تین فیصد سکڑنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بےروزگاری میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
اس موضوع پر بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں کبھی بھی نہ تو ایکسپورٹ میں اضافہ کر سکے ہیں اور نہ ہی اپنی ایف بی آئی بڑھا سکے ہیں۔ پاکستان کی معاشی تاریخ میں یہ ایک بڑی کمزوری رہی ہے۔
عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو وراثت میں 20 ارب ڈالرز کا تجارتی خسارہ ملا جسے کم کر کے 3 ارب ڈالرز تک لایا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب درآمدات کا بل دگنا تھا جسے کم کیا گیا، اسی طرح اسٹیٹ بینک کے ذخائر کو 7 ارب ڈالرز سے بڑھا کر 12 ارب ڈالرز کیا گیا۔
مشیر خزانہ نے کہا ہے کہ آنے والے بجٹ میں بہت ساری اشیا پر ڈیوٹی کو کم کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگوں کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان تک کیش اور کھانے پینے کی چیزیں پہنچ سکیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر دنیا کے دوسرے ممالک کی برآمدات میں کمی آتی ہے تو پھر کوششوں کے باوجود بھی ہماری برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو بارہ بارہ ہزار روپے کی مدد فراہم کی گئی۔ یہ رقم 144 ارب روپے بنتی ہے جس میں سے 90 ارب روپے کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب کسانوں سے گندم خرید رہے ہیں جس سے 280 ارب روپے کسانوں کے پاس پہنچیں گے۔ کورونا کی وجہ سے جو 40 لاکھ ورکر متاثر ہوئے ہیں ان کو بھی رقم کی ادائیگی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ وراثت میں ملنے والے بھاری قرضوں کی وجہ سے گزشتہ دو برسوں میں 5 ہزار ارب روپے کے قریب سود کی ادائیگی کی گئی ہے، آئی ایم ایف سے 1.4 ارب ڈالرز کا رعایتی قرض حاصل کیا ہے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ دو چیزیں ہمارے حق میں جا رہی ہیں۔ جب ایک فیصد شرح سود کم ہوتا ہے تو اس کا 100 ارب تک فائدہ ہو سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کا بھی فائدہ حاصل ہو گا۔
مشیر خزانہ نے یہ گفتگو جیو نیوز پر شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں کی ہے۔