کورونا وبا کے متعلق گیلپ کا تازہ سروے سامنے آیا ہے جس میں وفاقی حکومت کی کارکردگی، وائرس کے کنٹرول میں ہونے اور عام آدمی کی مشکلات کے حوالے سے آرا سامنے آئی ہیں۔
یہ سروے 4 جون سے 13 جون 2020 کے درمیان بذریعہ ٹیلیفون کیا گیا جس میں ایک ہزار افراد سے ان کی رائے لی گئی۔
سروے میں شامل ایک اہم سوال یہ تھا کہ کیا وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کی صورتحال کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا ہے، اس پر 67 فیصد افراد نے حکومت کی تعریف کی جبکہ 28 فیصد حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ مارچ میں کیے گئے سروے میں حکومتی کارکردگی سے مطمئن ہونے والوں کی تعداد 60 فیصد، اپریل میں 77 جبکہ مئی میں 88 فیصد تھی۔
پاکستان میں 4855 ہیلتھ ورکرز کورونا سے متاثر، 48 جاں بحق
کورونا وبا خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، عالمی ادارہ صحت کی وارننگ
کورونا سے پہلے پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی، اسد عمر
دنیا کے 17 ممالک میں عوام اپنی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، پاکستان اس فہرست میں چوتھے نمبر پر آتا ہے، ملائشیا میں 91 فیصد اور بھارت میں 84 فیصد لوگ اپنی حکومتوں کی کورونا کے حوالے سے کارکردگی سے مطمئن ہیں۔
سروے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں 47 فیصد افراد نے کورونا کے کنٹرول میں ہونے کی بات کی جبکہ 45 فیصد کے خیال میں یہ وبا کنٹرول میں نہیں ہے، 7 فیصد نے اس پر کوئی رائے نہیں دی۔
گیلپ سروے میں 78 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے جاننے والوں میں کوئی کورونا سے متاثر نہیں ہوا جبکہ صرف 12 فیصد نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی جان پہچان کا کوئی فرد کورونا کا شکار ہوا ہے۔
سروے کے مطابق 55 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ کورونا سے متعلق خطرات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے، 41 فیصد نے ان خطرات کو حقیقی قرار دیا، 4 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔
سندھ میں 65 فیصد جبکہ پنجاب میں 55 فیصد کا خیال تھا کہ کورونا کے خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، خیبرپختونخوا میں ایسے افراد کی شرح 43 فیصد اور بلوچستان میں 40 فیصد ہے۔
عیدالفطر پر اخراجات میں اضافے کے سوال پر 55 فیصد نے کہا ان کے خرچے کم ہوئے ہیں، 24 فیصد لوگوں نے خرچے بڑھنے جبکہ 21 فیصد نے کوئی فرق نہ پڑنے کی بات کی۔
ایک اہم سوال ملک میں لاک ڈاؤن نرم کر کے کاروبار کھولنے کے متعلق تھا جس پر 47 فیصد نے حق میں جبکہ 48 فیصد نے مخالفت میں رائے دی، 5 فیصد نے کوئی جواب نہیں دیا۔
سروے میں شامل ایک سوال کے جواب میں 88 فیصد افراد نے کورونا وائرس کے باعث گھریلو آمدنی میں کمی کی شکایت کی جبکہ 12 فیصد نے کہا کہ آمدنی پر کوئی فرق نہیں پڑا۔
تنخواہ دار طبقے کے کورونا سے متاثر ہونے کے سوال پر 17 فیصد نے کہا کہ آمدن میں کوئی فرق نہیں پڑا، 19 فیصد نے ملازمت سے ہاتھ دھونے، 18 فیصد نے تنخواہ میں کمی، 7 فیصد نے بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیجنے اور 4 فیصد نے تنخواہ کے ساتھ چھٹی ملنے کی بات کی۔
گھر میں کھانے کی تعداد میں کمی کے حوالے سے سوال پر 26 فیصد افراد نے ایک وقت کا کھانا کم کرنے کی تصدیق کی۔
سروے میں عوام سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر آج اسکول کھل جائیں تو کیا وہ بچوں کو تعلیم کے لیے بھیجیں گے؟ حیرت انگیز طور پر 73 فیصد نے ہاں میں جواب دیا جبکہ 24 فیصد نے مخالفت کی۔
اسی سے جڑا یہ سوال بھی کیا گیا کہ اگر آپ استاد ہوں تو کیا اسکول کھلنے کی صورت میں وہاں جائیں گے؟ اس کے جواب میں 68 فیصد عوام نے رضامندی ظاہر کی، 16 فیصد نے اختلاف کیا جبکہ 17 فیصد نے کوئی جواب نہیں دیا۔
59 فیصد نے رواں سال کے اختتام تک صورتحال نارمل ہونے کی امید ظاہر کی جبکہ 29 فیصد کا خیال تھا کہ کورونا وبا ابھی مزید جاری رہے گی، 12 فیصد نے اس پر کوئی رائے نہیں دی۔