اب تک سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد میں مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ ہے لیکن بھارت میں معاملہ مختلف نظر آ رہا ہے۔
بھارت اور امریکہ کے سائنسدانوں کی مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگرچہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن اموات کے حوالے سے خواتین کی شرح زیادہ پائی گئی ہے۔
20 مئی تک بھارت میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کے متعلق اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے والی 3.3 فیصد خواتین جبکہ 2.9 مرد موت کا شکار ہو رہے ہیں۔
کورونا وائرس سے عورتوں کی نسبت مردوں میں اموات کی شرح زیادہ کیوں ہے؟
دنیا بھر میں گھریلو تشدد کی نئی لہر پھیل گئی
تحقیق کے مطابق کورونا سے متاثر ہونے والی 40 سے 49 سال کی درمیانی عمر کی 3.2 فیصد خواتین موت کا شکار ہوئی ہیں، اس کے مقابلے میں مردوں میں یہ شرح 2.1 رہی ہے۔
اسی طرح 5 سے 19 برس کے ایج گروپ میں صرف لڑکیاں ہی کورونا سے موت کا شکار ہوئی ہیں۔
اس تحقیق کی ایک نمایاں شخصیت ہارورڈ یونیورسٹی کے پاپولیشن ہیلتھ کے پروفیسر ایس وی سبرامینین نے بتایا کہ جنس کی بنیاد پر ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔
پہلے طریقے میں خواتین میں کورونا کے مصدقہ کیسز کو خواتین میں ہونے والی اموات پر تقسیم کر دیا جاتا ہے اور اس سے شرح نکالی جاتی ہے۔
دوسرے طریقے میں کورونا سے موت کا شکار ہونے والے مردوں اور خواتین کی مجموعی تعداد میں سے خواتین کی شرح نکالی جاتی ہے۔
پروفیسر سبرامینین نے کہا کہ تجزیہ کرنے والے زیادہ تر دوسرے طریقے کو استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے مردوں کی اموات کی تعداد زیادہ دکھائی دیتی ہے (بھارت میں 63 فیصد مرد کورونا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں)۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہمارے تجزیے کے مطابق بھارت میں کورونا سے متاثرہ خواتین میں مردوں کی نسبت زندہ رہنے کی شرح زیادہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ حیاتیاتی خصوصیات ہیں یا پھر سماجی وجوہات، اس حوالے سے ابھی تک وضاحت نہیں ہو سکی۔
اس وضاحت کے باوجود تحقیق کے نتائج حیرت انگیز ہیں اور باقی دنیا سے بہت مختلف ہیں۔
جان ہاپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ میں وبائی امراض کے پروفیسر کونی ہیرو متسوشیٹا کا کہنا ہے کہ باقی دنیا میں خواتین میں کورونا سے اموات کی شرح میں کمی کی بہت سی وجوہات شامل ہو سکتی ہیں جن میں مردوں میں تمباکو نوشی، خواتین میں ایسٹروجن جیسے دیگر ہارمون کی موجودگی اور مردوں کا ہاتھوں کو کم دھونا شامل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر اس پہلو سے دیکھا جائے تو ریسرچ میں خواتین میں اموات کی زیادہ شرح ایک حیرت انگیز بات ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت میں کورونا کی تشخیص کے طریق کار پر تحقیق ہونی چاہیئے، مثال کے طور پر اس بات پر تحقیق ہونی چاہیئے کہ کیا خواتین اور مردوں میں کورونا کا ٹیسٹ کرانے کے مواقع یکساں ہیں؟
بھارت میں خواتین میں طویل العمری کی شرح مردوں سے زیادہ ہے، اسی لیے ملک میں معمر مردوں کی نسبت معمر خواتین کی تعداد بھی زیادہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اسی وجہ سے خواتین میں کورونا سے موت کی شرح زیادہ ہے کیونکہ بڑی عمر کے افراد کا موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟
اسی طرح بھارت میں خواتین عموماً ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے گھر میں ہی علاج کرا لیتی ہیں جس کی وجہ سے کورونا کا شکار ہونے کے بعد وہ اس وقت اسپتال کا رخ کرتی ہیں جب وائرس انہیں بری طرح متاثر کر چکا ہوتا ہے۔
1918 کی اسپینش فلو کی وبا کے دوران بھی بھارتی خواتین میں اموات کی شرح مردوں سے زیادہ تھی، اس کی وجوہات میں کم خوراک، غیرصحتمند گھریلو ماحول اور گھٹن زدہ مکانات میں زیادہ دیر رہنا سمجھا جاتا ہے۔
کرسچین میڈیکل کالج کے ریٹائرڈ پروفیسر ٹی جیک جان کے مطابق ہمیں جنس کی بنیاد پر ڈیٹا پر مزید گہرائی میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔