اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیپلزپارٹی رہنماؤں پر الزامات عائد کرنے والی امریکی خاتون سنتھیا رچی کی ایف آئی اے کو کارروائی سے روکنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے خاتون کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جسے آج سنا دیا گیا ہے۔
امریکی خاتون سنتھیا رچی کا سفری ریکارڈ سامنے آ گیا، 52 بار پاکستان آئیں
کورونا مریضوں کا علاج کرنیوالی امریکی خاتون ڈاکٹر نے خود کشی کیوں کی؟
پولیس اور ایف آئی اے کا امریکی خاتون سنتھیا رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار
اس سے قبل اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے سنتھیا رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جسے خاتون نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
انہوں نے اپنی درخواست میں ہائیکورٹ سے استدعا کی تھی کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا اس لیے ایف آئی اے کو ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے روکا جائے۔
اس سے قبل مقدمے کی سماعت کے دوران سنتھیا رچی کی جانب سے عمران فیروز بطور وکیل عدالت میں پیش ہوئی انہوں نے سیشن جج کا فیصلہ پڑھ کر سنایا تو چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ اس فیصلے سے کیسے متاثر ہوئے ہیں؟
ایڈووکیٹ عمران فیروز نے عدالت کو بتایا کہ اس فیصلے کے کچھ دیگر پہلو ہیں جن پر وہ بات کرنا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماتحت عدالت نے براہ مقدمہ درج کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔
اس پر سنتھیا رچی کے وکیل نے کہا ان کی موکلہ کو تحقیقات پر اعتراض نہیں ہے، ان کی استدعا مقدمہ درج نہ کرنے کے متعلق ہے۔
اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت اس کیس کے میرٹس میں نہیں جائے گی۔