یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے بہت اندر تک ایک بڑا حملہ کیا ہے اور میزائلوں سے دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یمن سے چلائے گئے بیلسٹک میزائل ریاض تک پہنچ گئے تاہم انہیں رستے میں تباہ کر دیا گیا ہے۔
عالمی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایک عینی شاہد نے بتایا کہ منگل کی صبح ریاض میں دو بڑے دھماکوں کی آواز آئی اور اس نے شہر کے قریب دھوئیں کی لکیریں پھیلتی دیکھیں۔
گزشتہ ماہ کورونا وبا کے باعث فریقین کے درمیان چھ ہفتے کے لیے جنگ بندی کر دی گئی تھی تاہم ایک بار پھر لڑائی شروع ہو گئی ہے، حوثی میزائل اور ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حملہ کرتے ہیں جبکہ سعودی فوج فضائی حملوں کے ذریعے جواب دیتی ہے۔
یمن کے المسیرہ ٹی وی کے مطابق حوثیوں کے فوجی ترجمان چند گھنٹوں میں اس حوالے سے تفصیل بتائیں گے۔
سعودی عرب اور ان کی اتحادی فوج کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا کہ ان کی فوج نے حوثیوں کی جانب سے ریاض پر فائر کیے گئے میزائلوں کو رستے میں تباہ کر دیا ہے، اس حملے کا مقصد شہریوں کو نشانہ بنانا تھا۔
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے کے مطابق انہوں نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے جنوبی سرحدی شہر نجران اور جزان پر فائر کیے گئے تین میزائلوں کو بھی اتحادی فوج نے تباہ کر دیا ہے، اسی طرح دارالحکومت ریاض کی جانب بھیجے گئے ڈرون طیاروں کو بھی گرا دیا گیا ہے۔
مارچ 2015 میں جب ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کے ہمدرد حکمرانوں کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا تھا تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پھیل گئی تھی اور جنگ چھڑ گئی تھی۔
اس جنگ کو خطے میں عرب ایران پراکسی جنگ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔