وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی، اجلاس میں فواد چوہدری کے گزشتہ روز کے بیان پر اراکین کے درمیان گرماگرمی ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق اسد عمر نے فواد چوہدری کے بیان کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھایا جس پر انہوں نے کابینہ اراکین کو گفتگو میں احتیاط اور اتحاد قائم رکھنے کی ہدایت کی۔
فواد چوہدری نے پی ٹی آئی میں رسہ کشی کے متعلق اہم انکشافات کر دیے
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں بعض وزرا اور مشیروں کی کارکردگی پر بھی گرما گرم بحث ہوئی۔
ذرائع کے مطابق فیصل واوڈا نے اسد عمر، رزاق داؤد اور ندیم بابر کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی، انہوں نے الزام عائد کیا کہ کابینہ کے اندر سے لوگ سازشیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ ہمارے ساتھ گیم ہو رہی ہے، ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، کابینہ میں کچھ کہا جاتا ہے باہر کچھ اور کہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم وزیراعظم بن چکے ہیں، وزیراعظم نے فیصل واوڈا کو جذباتی دیکھ کر کہا کہ فیصل ریلیکس رہو۔
تاہم فیصل واوڈا نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ ہم پی ٹی آئی کا نظریہ دبنے نہیں دے سکتے، ہمیں معلوم ہے کون کیا کر رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کابینہ میں کچھ بتایا جاتا ہے، کاغذوں میں فیصلے کچھ اور طرح کے ہوتے ہیں، ہمیں وزیراعظم کے سامنے سیدھی بات بتائی جائے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے وزراء کو کہا کہ ان کے پاس کارکردگی بہتر بنانے کے لیے 6 ماہ کا وقت ہے، انہوں نے الٹی میٹم دیا کہ وہ اس عرصے میں کارکردگی بہتر بنائیں۔
وزیراعظم نے مشیران اور معاونین خصوصی سے دوہری شہریت کی تفصیلات طلب کر لیں، انہوں نے حکم دیا کہ یہ لوگ اپنی شہریت کی تفصیلات کابینہ ڈویژن میں جمع کرائیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ رات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ اسد عمر اور جہانگیر ترین کے درمیان مسلسل کشمکش جاری رہی، پہلے جہانگیر ترین نے اسد عمر کو وزارت سے نکلوایا اور بعد میں اسد عمر نے جہانگیر ترین کی چھٹی کرا دی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے کے بعد اسد عمر، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے اختلافات اسقدر بڑھ گئے تھے کہ سیاسی لوگ کھیل سے ہی باہر ہو گئے اور ان کی جگہ ایسے افراد آ گئے جن کا سیاست سے تعلق نہیں تھا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی سے باہر کے لوگ نہ ہی عمران خان کے وژن کو جانتے ہیں اور نہ ہی ان میں کوئی صلاحیت ہے، انہوں نے وزیراعظم کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔