وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی میں ہونے والے طیارہ حادثہ کی عبوری تحقیقات رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہے۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ فلائٹ کے دوران پائلٹس مسلسل کورونا کے متعلق گفتگو کرتے رہے، ان کی توجہ پرواز کی طرف نہیں تھی۔
عبوری تحقیقات رپورٹ کے مطابق حادثے کی ذمہ داری پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) پر عائد ہوتی ہے، پائلٹ ضرورت سے زیادہ اعتماد کا شکار تھا۔
غلام سرور خان نے بتایا کہ جہاز میں کسی قسم کی خرابی نہیں تھی اور وہ پرواز کے لیے 100 فیصد ٹھیک تھا۔
انہوں نے کہا کہ رن وے سے 10 میل کے فاصلے پر جہاز کو 3200 فٹ کی اونچائی پر ہونا چاہیئے تھا لیکن وہ 7000 فٹ بلندی پر تھا، اے ٹی سی نے پائلٹ کو بتایا کہ جہاز لینڈ کرنے کے بلندی کم کرے لیکن پائلٹ نے کوئی بات سننے سے انکار کر دیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پائلٹ نے لینڈنگ گیئر رن وے سے 5 ناٹیکل میل کے فاصلے پر بند کر دیے تھے حالانکہ وہ پہلے کھلے ہوئے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو کہا کہ وہ جہاز کی بلندی کم کرے تو اسے جواب میں کہا گیا کہ میں سنبھال لوں گا، ضرورت سے زیادہ اعتماد حادثے کی ایک بڑی وجہ بنی۔
وفاقی وزیر نے کنٹرول ٹاور کی غلطی بتاتے ہوئے کہا کہ اس نے لینڈ کرنے کی پہلی کوشش ناکام ہونے کے بعد جہاز کو پہنچنے والے نقصان کے متعلق نہیں بتایا، جب اس نے انجن میں آگ لگتی دیکھی تو اسےا پائلٹ کو بتانا چاہیئے تھا۔
غلام سرور خان کے مطابق جب پائلٹ نے لینڈ کرنے کے بعد جہاز دوبارہ اٹھایا تو اس کے دونوں انجنوں کو نقصان پہنچ چکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پائلٹ بہت زیادہ تجربہ کار تھا، یہ افسوسناک بات ہے کہ پائلٹ اور کو پائلٹ کے ضرورت سے زیادہ اعتماد اور توجہ کی کمی کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ ائیرکنٹرولر نے 3 بارپائلٹ کو اونچائی سے متعلق آگاہ کیا، پائلٹ نے ائیرکنٹرولر کی ہدایات کو نظر انداز کیا، رن وے سے 3 مرتبہ انجن ٹکرایا، ویڈیو میرے پاس ہے، ریکارڈ سنتے وقت پائلٹس یا اللہ یااللہ کہہ رہے تھے۔
انہوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جہاز نے جب دوبارہ ٹیک آف کیا تو دونوں انجنوں کو کافی نقصان ہوچکا تھا، لینڈنگ گیئر کے بغیر جہاز 3 بار رن وے سے ٹچ ہوا، تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ اور اے ٹی سی نے مروجہ طریقہ استعمال نہیں کیا۔
غلام سرور خان نے بتایا کہ چترال طیارے کا واقعہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا، بوجا ائیر کریش کا واقعہ انتظامی غفلت اور نامناسب تربیت کے باعث پیش آیا، ائیر بلیو اور بھوجا ائر کے کریو نے پروسیجرز کی خلاف وزری کی تھی۔
تباہ ہونے والے گھر
وفاقی وزیر ہوابازی نے بتایا کہ جن گھروں پر طیارہ گرا ان کا بھی سروے کیا گیا، طیارہ حادثے سے 29 گھروں کو نقصان پہنچا، متاثرہ گھروں کے خاندانوں کو عارضی رہائش دی گئی، طیارے حادثہ جن گھروں پرہوا وہاں ایک بچی بھی جاں بحق ہوئی۔
پائلٹس کی جعلی ڈگریاں
وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ ماضی میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں پر تعیناتیاں سامنے آئیں، پاکستان میں 860 ایکٹو پائلٹس ہیں، 54 کیسز میں 28 لوگوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے۔
انہوں نے کہا کہ 18 لوگوں کو شوکاز نوٹسز کے ساتھ ساتھ انہیں سنا بھی گیا، کچھ پائلٹس نے روتے روتے اپنی غلطی بھی تسلیم کرلی، 262 پائلٹس ایسے تھے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیے۔
ان کا کہنا تھا کہ کہیں نہ کہیں اداروں کی ناکامی بھی ہے، ہمارے پائلٹس کے لائنس جعلی ہیں، افسوس کی بات ہے کہ 262 پائلٹس کے لائسنز جعلی نکلے، گزشتہ تمام حادثات کی بروقت انکوائری ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی۔
غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں کریں گے، ہم نے اداروں کو بہتربنانا ہے، ذمہ داروں کے خلاف بلا تفریق ایکشن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کرنی ہے اور اس ادارے کو دوبارہ فعال بنانے کا عزم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکمل رپورٹ اس سال کے آخر تک پیش کی جائے گی۔