امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر جان بولٹن نے انکشاف کیا ہے کہ فروری 2019 میں جب پاکستانی فضائیہ نے بھارتی جہاز گرایا تو وائٹ ہاؤس میں کھلبلی مچ گئی تھی۔
حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں بتایا کہ اس واقعہ کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس میں ایک ایمرجنسی اجلاس منعقد ہوا جس میں کئی گھنٹوں تک دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دور کرنے پر غور کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دن افغانستان کے متعلق ایک طویل اجلاس ختم ہی ہوا تھا کہ پاک بھارت کشیدگی کے متعلق دوبارہ سے اجلاس شروع کرنا پڑا۔
اجلاس میں سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیکل پومپیو، اس وقت کے یو ایس جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ اور امریکی ڈیفنس سیکرٹری پیٹرک شاناہن شریک تھے۔
بولٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کئی گھنٹوں تک وہ دونوں ممالک کو فون کالز کرتے رہے اور آخرکار بحران ٹل گیا، جب دو نیوکلئیر طاقتیں اپنی فوجی صلاحتیں استعمال کرتی ہیں تو اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ 14 فروری کو بھارت کے پیراملٹری فورس کے ایک قافلے پر خودکش حملے کے بعد کشیدگی کا آغاز ہوا تھا۔
اس حملے میں 40 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے، حملہ آور عادل احمد ڈار کشمیر کا مقامی باشندہ تھا تاہم بھارتی حکومت نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا اور 26 فروری کو بالاکوٹ پر فضائی حملہ کر دیا۔
پاکستان نے جواب میں صبر کا مظاہرہ کیا اور جب بھارتی فضائیہ نے دوبارہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی تو ایک طیارے کو گرا دیا گیا اور اس کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
یکم مارچ کو خیرسگالی کے جذبے کے تحت ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔