وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اب اسمارٹ لاک ڈاؤن صرف بوڑھے اور مریض افراد کے لیے ہو گا۔
احساس پروگرام کے تحت نئے اقدامات کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن کیا گیا، اگر صوبے مجھ سے پوچھتے تو کبھی ایسا لاک ڈاؤن کرنے کی اجازت نہ دیتا۔
ان کا کہنا تھا کہ چین اور یورپ کو دیکھ کر ہمارے اوپر بھی لاک ڈاؤن کے لیے دباؤ ڈالا گیا لیکن میں نے اس کا سامنا کیا اور سخت لاک ڈاؤن نہیں ہونے دیا۔
عمران خان کے مطابق انہیں کہا گیا کہ مودی نے بھی بھارت میں لاک ڈاوَن کر دیا ہے لیکن اس کی وجہ سے بھارت میں غربت اور بھوک میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن کے باعث سروس سیکٹر تباہ ہو گیا، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز بالکل بند ہو کر رہ گئے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کاروبار بھی کھلا رہے اور لوگوں کو ایس او پیز کے مطابق کام کرنے کا احساس بھی دلایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگلا مہینہ بہت مشکل کا ہے جس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ہو گا، اس میں معمر اور بیمار افراد کے لیے لاک ڈاؤن کرنا ہو گا، ساتھ ساتھ اس کے اثرات سے غریب طبقے کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی قوم کے فنڈنگ کے جذبے کو سمجھتے ہیں، پاکستان کے عوام میں خیرات دینے کا جذبہ سب سے زیادہ ہے۔