پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس کے نئے کیسز اور اموات کی شرح میں واضح کمی دیکھی گئی ہے، ہفتے کو صوبے بھر میں 2538 نئے کیسز سامنے آئے تھے جبکہ اتوار کو یہ تعداد 1523 ہو گئی۔
اسی طرح ہفتے کے روز 82 افراد کورونا کے باعث انتقال کر گئے تھے جبکہ اتوار کو 60 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
اگر لاہور کو دیکھا جائے تو ہفتے کے روز نئے کیسز کی تعداد 1166 تھی جبکہ اتوار کو 728 نئے افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔
کورونا پر حکومتی کارکردگی سے 67 فیصد پاکستانی مطمئن، گیلپ سروے
پاکستان میں جولائی کے آخرتک کورونا کیسزعروج پر ہوں گے، عمران خان
پاکستان کے 20 شہروں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ
سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کا گزشتہ 10 روز کا ڈیٹا دیکھا جائے تو 11 جون کو نئے کورونا مریضوں کی تعداد 1031 تھی جبکہ 20 جون کو یہ تعداد کم ہوتی ہوئی 861 تک پہنچ گئی ہے۔
میو اسپتال کے چیف ایگزیکٹو افسر پروفیسر اسد اسلم خان نے ڈان اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کی صبح تک لاہور کے 16 سرکاری اسپتالوں میں 226 ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس (ایچ ڈی یو) بیڈز جبکہ 16 آئی سی یو بیڈز خالی پڑے ہیں۔
ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس ایسے کورونا مریضوں کے لیے مختص کیے جاتے ہیں جنہیں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ آئی سی یو میں وہ مریض جاتے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہو۔
محکمہ صحت کے ایک افسر کے مطابق کورونا کے نئے کیسز میں مزید کمی متوقع ہے کیونکہ 16 جون کی رات سے لاہور اور صوبے کے دیگر شہروں میں منتخب علاقوں میں کیے جانے والے لاک ڈاؤن کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ 14 روز تک جا سکتا ہے اس لیے درست تجزیہ 30 جون کو کیا جا سکے گا۔
پنجاب کے محکمہ صحت اور میڈیکل ایجوکیشن کے سیکرٹری نبیل اعوان نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 226 جبکہ اب تک 5110 مریض صحتیاب ہو کر واپس چلے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے تمام ٹیچنگ اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے مختص کیے گئے 6305 بیڈز میں سے 4236 خالی پڑے ہیں۔
نبیل اعوان نے بتایا کہ پنجاب کے ایچ ڈی یوز میں کورونا مریضوں کے لیے 1175 بیڈز مختص کیے گئے تھے جن میں سے 639 خالی ہیں، پنجاب میں کل 433 وینٹی لیٹرز میں سے 220 اب بھی مریضوں کے لیے موجود ہیں۔