پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والے تقریباً ایک درجن سے زائد نجی پاور پلانٹس ( آئی پی پیز ) کے پاس تیل کے ذخائر صرف چند دن کیلئے باقی رہ گئے ہیں جس سے ملک کو بجلی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی پی پیز نے حکومت کو بتایا ہے کہ وہ لیکوڈیٹی بحران کے باعث ایندھن کی مزید خریداری کرنے سے قاصر ہیں جبکہ پاور پلانٹس کو آر ایل این جی گیس کی سپلائی بھی کم کر دی گئی ہے۔
نیشنل پاور کنٹرول سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو عنقریب لوڈ مینجمنٹ کا سامنا کرنا ہوگا۔
کچھ پلانٹس گیس پر چل رہے ہیں جبکہ کچھ پلانٹس گیس کی کمی کے باعث فرنس آئل پر چل رہے ہیں جبکہ سیفائر پاور پلانٹ کو ڈیزل پر چلایا جا رہا ہے۔
پلانٹ کے پاس ڈیزل کا پرانا ذخیرہ موجود تھا جس کی پیداواری لاگت 13 روپے فی یونٹ ہے اور یہ میرٹ آرڈر پر ہے جبکہ میسرز اورینٹ پاور پلانٹ کام ہی نہیں کر رہا۔ تاہم کچھ آئی پی پیز نیشنل پاور کنٹرول سینٹر پر میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گرم موسم کے باعث سسٹم زیادہ سے زیادہ طلب کے ہدف کو چھو رہا ہے اور تمام آئی پی پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پاور پرچیز ایگریمنٹ کے مطابق اپنے ایندھن کے ذخیرے کو برقرار رکھیں تاکہ سسٹم بڑھتی ہوئی طلب کا لوڈ برداشت کر سکے۔
تاہم بہت سارے آئی پی پیز اپنی ایندھن انوینٹریز کو برقرار رکھنے میں اپنی نااہلی کو ظاہر کر رہے ہیں جس کی وجہ بجلی خریداروں سے بھاری واجبات کی وصولی اور ملک میں جاری ریزیڈول فیول آئل اور لو سلفر آئل کی قلت ہے۔
وزارت توانائی کی جانب سے ایندھن کی کمی کا معاملہ پہلے سے ہی نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے نوٹس میں لایا جا چکا ہے۔
بزنس ریکارڈر میں شائع مشتاق گھمن کی خبر کے مطابق بجلی اور پیٹرولیم وزارتوں کے مابین پالیسی کے فقدان اور کوآرڈینیشن کی عدم موجودگی کے باعث توانائی کا شعبہ مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔
ڈیزل کے استعمال کی وجہ سے آنے والی اضافی پیداواری لاگت فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے وصول کی جائے گی، حکام کی جانب سے کی گئی نااہلیوں کی قیمت عوام کو ادا کرنا ہو گی۔