امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب تک ریمڈیسویر کی تقریبا پانچ لاکھ سے زائد خوراک حاصل کرچکی ہے۔ یاد رہے کہ ریمڈیسویر وہ واحد دوا ہے جسے کورونا وائرس کے علاج کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
اس دوا کے تمام موجودہ ذخائر پر ٹرمپ انتظامیہ کے قابض ہونے کی اس کوشش پر برطانوی ماہرین نے اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔ امریکی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق دوا ساز اگلے تین ماہ کے لیے اس دوا کا جو ذخیرہ پوری دنیا کو پیش کرنے جارہے تھے وہ تمام امریکہ پہلے ہی خرید کر چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی یونیورسٹی لیور پول کے سینئیر ریسرچر ڈاکٹر اینڈریو ہل کا کہنا ہے کہ امریکہ ریمڈیسویر ڈرگ کی سپلائی کے زیادہ تر حصے تک رسائی حاصل کرچکا ہے، اس لیے اب یورپ کے لیے کچھ نہیں بچا۔
کورونا کے خلاف روس کی دوائی ایوی فیور کی سعودی عرب میں آزمائش شروع کرنے کا امکان
پاکستان اگلے چند ہفتوں میں کورونا کی دوا ‘رمڈیسیویر’ کی پیداوار شروع کر دے گا
دنیا کے غریب افراد اور ممالک تک کورونا ویکسین کیسے پہنچے گی؟
انہوں نے کہا کہ یہ بڑے پیمانے پر پہلی منظور کردہ دوا ہے، مگر اس تک رسائی حاصل کرنے کا طریقہ کار کہاں ہے؟ ایک بار پھر ہم قطار میں پیچھے کھڑے رہ گئے۔
ڈاکٹر اینڈریو ہل نے وائٹ ہاوس کے اس یکطرفہ اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تصور کریں کہ اگر یہ ایک ویکسین ہوتی تو ایسی کسی حرکت سے دنیا میں اب تک طوفان برپا ہوچکا ہوتا۔
برطانوی ریسرچر کی رائے ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ریمڈسیور کی پانچ لاکھ خوراکیں خرید چکی ہیں۔ یہ ساری دوا جولائی میں تیار کی گئی تھی اور اس کا 90 فیصد حصہ اگست اور ستمبر میں استعمال کرنے کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ چونکہ اس دوا کو تیار کرنے کے تمام اختیارات جیلیڈ کمپنی کے پاس ہیں، اس لیے قانون کی رو سے کسی بھی کمپنی کو یہ دوا تیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات کی سیکرٹری ایلکس ازر نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کووڈ – 19 کی پہلی منظور شدہ دوا تک امریکیوں کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بہترین ڈیل کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جس حد تک ممکن ہوسکا اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی بھی ضرورت مند امریکی مریض یہ دوا حاصل کرسکے۔ ٹرمپ انتظامیہ، زندگی بچانے والی ان ادوایات کے متعلق مزید جان کاری حاصل کرنے اور مختلف آپشنز تک امریکی عوام کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے وسائل کا بھر پور استعمال کررہی ہے۔
اس مبینہ ڈیل نے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، انہوں نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے حق میں بہتر ہے کہ ہم اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے باہمی تعاون اور اشتراک سے کام کریں۔
ڈیکسامیتھاسون کے علاوہ، ریمڈسویر کورونا وائرس کے خلاف واحد منظور شدہ دوا ہے۔ اب جبکہ ٹرمپ نے کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دوا کے تمام ذخائر کو امریکہ کے لیے حاصل کرنے کی ٹھان لی ہے تو واحد آپشن ڈیکسامیتھاسون رہ گیا ہے۔
آج سے 60 سال قبل ایجاد کردہ ڈیکسامیتھاسون اس وقت بھی مارکیٹ میں سستے داموں میں موجود ہے اور شاید اب وہ واحد دوا ہے جو کورونا کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ہماری پہنچ میں ہے، جب تک دنیا میں کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوجاتی۔
تاہم دوسری جانب امریکہ کی جانب سے کورونا وائرس کے خلاف تیارہ کردہ کسی بھی ویکسین کو حاصل کرنے کے لیے تیاریاں مکمل ہیں۔
فرانسیسی فارماسیوٹیکل کمپنی سنوفی کے مالک پال ہڈسن کا کہنا ہے کہ اگر ان کی کمپنی کوئی موثر ویکسین تیار کر لیتی ہے تو امریکہ کا حق ہے کہ وہ سب سے بڑا ایڈوانس آرڈر دے سکے کیونکہ بہرحال انہوں نے یہ رسک لینے میں اپنا سرمایہ لگایا ہے۔
ان ریمارکس پر فرانسیسی حکومت نے شدید ردعمل دیا جس کے بعد سنوفی کے ڈائریکٹر سرج وینبرگ کو ہڈسن کے الفاط کی باقاعدہ تردید کرنا پڑی۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق، امریکہ میں کووڈ 19 کے 26 لاکھ سے زائد کیسز رجسڑڈ ہوچکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 27 ہزار 425 اموات واقع ہوچکی ہیں۔