• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

توہین آمیز ویڈیو، سپریم کورٹ کا آغا افتخار کی معافی قبول کرنے سے انکار

by sohail
جولائی 2, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

آغا افتخار الدین مرزا کی توہین آمیز ویڈیو کیس میں سپریم کورٹ نے ملزم کی غیرمشروط معافی کی درخواست مسترد کر دی ہے اور 7 روز میں ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، دوسرے جج جسٹس اعجازالاحسن ہیں۔

سماعت کی تفصیل

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بہت ساری چیزیں معاف نہیں ہوتیں، آغا افتخار الدین مرزا کو 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ملزم کی وکیل سے کہا کہ معافی نامہ پڑھیں، اس میں لکھا کیا ہے، اسے عام مقدمے کی طرح نہ لیں، آپ اس کیس کو بہت ہلکا لے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افتخار الدین مرزا کو ابھی سزا سنا دیں گے، کئی ماہ جیل میں رہنا پڑے گا، آپ کو اس کیس کی نوعیت کا اندازہ نہیں ہے۔

افتخار الدین مرزا کی وکیل نے کہا کہ ملزم دل کا مریض ہے، اسپتال لیکر گئے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم کیا کریں، انہیں اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیئے تھا۔

دوران سماعت آغاز افتخار کی وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے غیر مشروط معافی نامہ جمع کرا دیا ہے، اس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معافی نامہ ہمارے سامنے نہیں ہے، جو الفاظ استعمال کیے گئے کیا ایسے الفاظ استعمال کیے جاسکتے تھے؟

انہوں نے استفسار کیا کہ ایسے مقدمے میں معافی نامہ کیسے دیں؟

ملزم کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر آغا افتخار عدالت عظمیٰ آئے تھے لیکن پولیس نے انہیں پیش نہیں ہونے دیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق یہ فوجداری اور دہشت گردی کا جرم بھی بنتا ہے، ایسے مقدمات میں معافی نہیں ہوتی، معافی نامہ دینے کا فائدہ نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے سامنے ملزم نے تسلیم کیا کہ 7 نمازیوں کے سامنے ویڈیو ریکارڈ ہوئی، ملزم نے معافی مانگ کر اپنا جرم تسلیم کر لیا ہے جبکہ آغا افتخار الدین مرزا کہہ رہے ہیں کہ میں نے جرم نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معافی نامے کا بیان حلفی بھی قانونی طریقہ کار کے مطابق نہیں، سادہ کاغذ پر معافی نامہ لکھ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ آغا افتخار الدین مرزا کی شناخت اوتھ کمشنر کے سامنے کس نے کی، جسٹس اعجازالاحسن نے اس موقع پر کہا کہ اوتھ کمشنر تو آغا افتخار الدین مرزا کو نہیں جانتا۔

جسٹس اعجازالاحسن  نے کہا کہ افتحار الدین مرزا کی ویڈیو کسی بچے کی بنی ہوئی نہیں، ان کا اپنا ویڈیو چینل ہے جس سے وہ پیسے کماتے ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ایسی زبان تو گلیوں میں بھی استعمال نہیں ہوتی اور ایک اسلامی اسکالر نے ایسی ویڈیو بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے میں کوئی رحم کی بات نہیں، آئندہ سماعت پر آغا افتخار الدین مرزا کو پیش کریں۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ معافی نامے اور دلائل میں تین مختلف موقف دیے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی کے ساتھ ویڈیو بنائی گئی ہے اور اس میں تصویریں بھی شامل کی گئیں۔

آغا افتخار کی وکیل نے کہا کہ ملزم غریب بندہ ہے، اسے معاف کردیں، انسان سے غلطی ہو جاتی ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے جواب میں کہا کہ یہ ادارے ہیں جن کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آغا افتخار نے عدلیہ اور ججز کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے، ان کے بیان نے عدلیہ کی ساکھ کو خراب کیا۔

انہوں نے کہا کہ آغا افتخارنے دل میں درد کی شکایت کی تو انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، انہیں چکر آ رہے تھے، اس پر جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ عدالت کا نوٹس ہوگا تو چکر تو آئیں گے۔

عدالت نے سینئر صحافی حامد میر اور محمد مالک کے وکیل کو سننے سے انکار کر دیا، عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا لکھا ہوا خط لینے سے بھی انکار کردیا ، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کچھ جمع کرانا ہے تو عدالتی طریقہ کار کے مطابق جمع کرائیں۔

بعد ازاں مقدمے کی سماعت 15 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔

Tags: آغا افتخار الدین مرزاجسٹس قاضی فائز عیسیٰچیف جسٹس گلزار احمدسپریم کورٹ آف پاکستان
sohail

sohail

Next Post

شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد

واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نئے فیچرز متعارف کرا دیے

ن لیگ کے 6 ارکان اسمبلی کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات پر چہ میگوئیاں شروع

کورونا وائرس: نیوزی لینڈ کے وزیر صحت ڈیوڈ کلارک عہدے سے فارغ

‏نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک ملازمت سے برطرف

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In