ہور: پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر عظمی کاردار کی پارٹی رکنیت ختم کر دی ہے، انہیں پنجاب اسمبلی کی رکنیت بھی چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔
گزشتہ ماہ عظمی کاردار کی ایک نامناسب آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد پارٹی کی جانب سے انہیں ایک ماہ کے لیے معطل کرتے ہوئے شوکاز نوٹس بھجوایا گیا تھا تاہم وہ اپنے جواب سے ڈسپلنری کمیٹی کو مطمئن نہیں کر پائی اور ان کی پارٹی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل عظمیٰ کاردار کو ترجمان حکومت پنجاب کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔
وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ عظمیٰ کاردار بطور ممبر میڈیا اسٹریٹیجی کمیٹی ترجمان حکومت پنجاب تھیں۔ ان کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ عظمیٰ کاردار کی ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک ہوگئی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی سفارش پر وزیراعظم عمران خان نے چار سے پانچ بندوں کو مختلف اسٹینڈنگ کمیٹیز کے چیئر پرسن لگایا تھا۔

مبینہ ویڈیو میں عظمیٰ کاردار کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی ان کے قبضے میں جن ہیں، جن سے وہ کام کرا لیتی ہیں اور ان کو وزیراعظم عمران خان کے گھر پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور کوئی بھی ان کی اجازت کے بغیر راستہ پار نہیں کرسکتا ہے۔