سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جوائنٹ انوسٹی گیشن رپورٹ منظرعام پر آ گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر آگ لگائی تھی۔
37 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری میں حماد صدیقی، رحمان بھولا کا ہاتھ تھا۔
رپورٹ کے مطابق واقعہ صرف فیکٹری میں آگ لگنے کا نہیں تھا بلکہ منظم منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردی کا واقعہ تھا۔
جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کیس کو انتہائی غیرپیشہ ورانہ انداز میں ڈیل کیا گیا، شروع سے ہی کیس اس طرح چلایا گیا جس سے ملوث گروہ کو فائدہ ہو۔
سانحے کی تحقیقات کے دوران اندرونی اور بیرونی طور پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی، دہشت گردی کے واقعے کو ایف آئی آر میں ایسے پیش کیا گیا جیسے کوئی عام قتل کا واقعہ ہوا۔
فیکٹری مالکان کا بیان
فیکٹری مالکان کی جانب سے جے آئی ٹی کو ریکارڈ کرایا گیا بیان بھی سامنے آ گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 2005 میں فیکٹری ملازم منصور نے زبیر عرف چریا کو فینشنگ ڈیپارٹمنٹ میں بھرتی کیا۔
بیان کے مطابق زبیر چریا بلدیہ سیکٹر انچارج اصغر بیگ کے چھوٹے بھائی کا گہرا دوست تھا، مالکان کو جنرل منیجر منصور نے ایم کیوایم کو 15 لاکھ روپے ماہانہ دینے پر رضا مند کیا۔
اپنے بیان میں فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے بعد ایم کیوایم سیکٹر اعجاز بیگ کو بھتہ دیا، 2012 میں شاہد بھائلہ، منصور کے آفس سے سیکٹر ماجد بیگ سے ملا جس نے کہا کہ ایم کیو ایم کو کروڑوں روپے بھتہ دینا پڑے گا۔
12 جولائی 2012 کو رحمان بھولا کو بلدیہ کا سیکٹر انچارج لگایا گیا۔
فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ ایک دن ہم فیکٹری سے نکل رہے تھے تو رحمان بھولا نے روکا اور دھمکی دی کہ بھتے کے لیے حماد صدیقی سے رابطہ کرو، اس نے حماد صدیقی کی ایما پر 25 کروڑ بھتہ اور فیکٹری میں حصہ مانگا۔
فیکٹری مالکان کے مطابق یہ سن کر ہم حیران رہ گئے، ہم نے منصور کو بھتے کے معمولات دیکھنے کا کہا اور اسے ایک کروڑ روپے دے کر معاملہ نمٹانے کا کہا۔