آپ نے ہمارا اور پاکستان کے حالات پوچھے ہیں۔ حبیب جالبؔ نے نوے کی دہائی میں اس وقت کے حالات اور اپنے حال کی عکاسی کرتے ہوئے ایک قطعہ لکھا تھا۔بڑے شعر اور شاعر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ کلام ہر دور میں حسبِ حال ہوتا ہے۔ذرا دیکھیں! حبیب جالبؔ کا تین دہائیاں قبل لکھا گیا قطعہ آج کے حالات وواقعات کی کس طرح عین عکاسی کر رہا ہے۔
حال ویسے ہیں ہم فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
اسپتالوں کی حالت اب بھی ویسی ہی ہے، جیسی تب تھی۔جب ربع صدی قبل آپ پاکستان چھوڑ کر لندن جا سدھارے!اسپتال سے پرچی تو ملتی ہے،دوائی باہر سے لینا پڑتی ہے۔اسپتالوں میں لوگ دوائی نا ملنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ حال آں کہ اسپتالوں کے سامنے میڈیکل اسٹورز میڈیسنز سے بھرے پڑے ہیں۔کیا لندن میں بھی ایسا ہوتا ہے؟اب تو میڈیکل اسٹوروں پر یہ بینر آویزاں کر دیا گیا ہے کہ یہاں سونے کے زیورات اور پراپرٹی کے کاغذات رکھوا کر دوائی لی جا سکتی ہے۔
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک!
آپ نے اپنی ایم۔ ایم۔ روڈ کو ربع صدی بیشتر جس حال میں چھوڑا تھا۔ ویسی نہیں رہی۔ بالکل تباہ ہوگئی ہے۔آپ کے دوست رؤف کلاسرا نے اس روڈ کی زبوں حالی پر کئی پروگرام کیے ہیں لیکن رنگا رنگ رنگیلے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔اس روڈ پر روزانہ ایکسیڈنٹ ہوتے رہتے ہیں۔اس پر، زیادہ تر، ہمارے بھائی بندوں، مرنے والوں کی اکثریت ملتان سے میاں والی تک سفر کرنے والے مسافروں کی ہوتی ہے۔اب تو وزیرِ اعظم آپ کے میانوالی کا ہے اور وزیرِاعلیٰ ٰہمارے تونسہ شریف کا! دونوں کا تعلق مرنے والوں اور ان کے ورثا سے براہ راست ہوتا ہے۔دونوں کا تعلق سرائیکی علاقے سے ہے۔لیکن ستم یہ ہے کہ ایک(عمران خان) کہتا ہے! میں پٹھان ہوں۔ (عمران خان بھی ویسا ہی پٹھان ہے، جیسے میں بلوچ ہوں۔ زبان نا کلچراورنا جغرافیہ،بھئی اب ہم سرائیکی ہیں نا)۔
دوسرا (عثمان بزدار) کہتا ہے میں بلوچ ہوں۔کوئی ان سے پوچھے، بھئی آپ رہتے جنوبی پنجاب میں ہیں، کھاتے جنوبی کا ہیں، تمھارا دکھ سکھ جنوبی پنجاب سے وابستہ ہے، تمھیں عزت و مسند سے جنوبی پنجاب نے نوازا ہے۔ ایک کو خیبر پختونخوا کا غم کھائے جا رہا ہے اور دوسرا بلوچستان کے غم میں مبتلا ہے۔ حالانکہ جب عثمان بزدار وزیرِ اعلیٰ بنا تھا توجنوبی پنجاب کے عوام مسرور ہوئے تھے۔ چلو تخت لاہور سے جان چھوٹی!
ان دنوں سرائیکی کا یہ شعر زبان زدِ عام تھا۔
ؔ ؔ
جیویں ضیا ء کوں چونسہ کھا گئے
تخت لاہور کوں تونسہ کھا گئے
ڈیئرشعیب! بزدارؔ کے وزیر اعلیٰ بننے سے آپ کے میل شاونزم کو ٹھیس تو نہیں پہنچی؟ آپ کی بیوی بھی تو بزدار ہے نا!
(یہ فقرہ اپنی بیوی کو مت دکھانا، ویسے بھی فیمنزم آج کل زوروں پر ہے)
جھنگ اور میانوالی، یورپ کا ترکی ہیں!
جس طرح جھنگ اور میانوالی کی زبان اور کلچر سرائیکی ہے۔ اسی طرح ترکی کی زبان اور کلچر ترکش ہے۔ ترکی خود کو یورپ کا حصہ کہلوانے پر مصر ہے لیکن یورپ اسے ایشیاء گردانتا ہے۔اب دلچسپ صورتِ حال یہ ہے کہ جھنگ اور اور میانوالی خود کو تختِ لاہور کا حصہ سمجھتے ہیں لیکن لاہور انہیں جنوبی پنجاب کا حصہ سمجھتا اور سرائیکی گردانتا ہے۔ہم جھنگ اور میانوالی کو سرائیکی قبول کرتے اور سمجھتے ہیں لیکن لاہور آپ کو پنجابی نہیں سمجھتا ”جانگلی“ کہتا ہے۔ اب فیصلہ آپ پر ہے۔ آپ خود کا ”جانگلی“ کہلوانا پسند فرمائیں گے یا سرائیکی؟
فاعتبرو یا اولی الابصار!
حکمرانو! اپنے حلقے کو اتنا ہلکا مت لو۔ پیپلز پارٹی اپنے گڑھ لاڑکانہ سے ہار سکتی ہے تو تم کس کھیت کی مولی ہو؟لیکن عبرت ہمیشہ بصیرت سے حاصل ہوتی ہے اور بصیرت تاریخ کے مطالعہ سے!اور اقتدار میں آ کر بصیرت تو کیا انسان بصارت سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔تاریخ کا مطالعہ عمران خان کے بیانات سے پتا چلتا رہتا ہے۔بات ہو رہی تھی ایم۔ ایم۔ روڈ کی کہ ہم ایک اور قضیئے میں الجھ کر رہ گئے۔
بات یہ ہے کہ ایم۔ ایم۔ روڈ پر روزانہ ایکسیڈنٹ ہوتے رہتے ہیں۔شاید ہی کوئی دن خیریت سے گزرا ہو؟جب ایم۔ایم۔ روڈ پر روزانہ بہنے والا تازہ خون، زخمیوں کی کراہیں، ماؤں کی آہیں، بیواؤں کی جگر پاش صدائیں اور رؤف کلاسرا کے متعدد پروگرامزحکمرانوں کو خوابِ غفلت سے نا جگا سکے تو ”نقارخانے“ میں طوطی کی صدا کون سنتا ہے؟ہماری تو بس چیخ ہے، جو درد کے بعد نکلتی ہے، کوئی سنے نا سنے!
خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِلہ بھی سن لے!
آپ کے لندن کا موسم ایسا ہے، جیسے کسی کے سینے میں بغض بھرا ہو۔اسی لیے صبح شام کی تمیز کے لیے AM اور PM والی گھڑیاں استعمال کرنا پڑتی ہیں۔یہاں کا موسم کھِلا کھِلا(پیش کے ساتھ پڑھیں، تب بھی مزہ دے گا)،چمک دار اور روشن ہوتا ہے۔’لندن کے کمرے اتنے گرم،جیسے کمرہ اوڑھے پڑے ہوں’۔یہاں کے کمرے ویسے ہی گرم ہوتے ہیں۔ کیوں کہ باہر گرمی ہوتی ہے۔سردیوں میں ایسے یخ بستہ، جیسے فریج کے اندر بیٹھے ہوں۔آزادی کے بعد آزادی اتنی وافر مقدار میں میسر ہے کہ آپ راہ چلتے جوس کا خالی ڈبہ یا سگریٹ کی خالی پیکٹ، لہراتا ہوا، بل کھاتا ہوا، بیچ سڑک کے بلا خوف وخطر پھینک سکتے ہیں۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ وہاں لندن میں، سنا ہے، جرمانا ہو جاتا ہے۔بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی؟اپنا ملک، اپنی سڑک اور اپنی ڈبیہ،پھر بھی ایسی پابندی، ایسی سختی؟
آپ کے یہاں لندن میں، بس میں، آپ کا پاؤں،کسی کے پاؤں کے پاؤں پر آجائے تو الٹا دوسرا سوری کرتا ہے۔ہم غیرت مند لوگ ہیں۔ سوری وغیرہ نہیں کرتے۔ اسے سناتے ہیں۔ ‘اندھے ہو دیکھ کر کھڑے نہیں ہو سکتے’؟جھگڑا اس قدر طول پکڑتا ہے کہ دونوں کو بس سے اتارنا پڑتا ہے۔ تب کہیں بس آگے روانہ ہو سکتی ہے۔یہاں تو باعثِ تعزیر جرائم کی بھی دے دلا کر خلاصی ہو جاتی ہے۔ ایسی آزادی، ایسی مستی، ایسا سرور، ایسا سکون، دیارِ غیر میں کہاں نصیب؟یہاں تو من چلے،بیچ چوراہے، سیٹیاں بجاتے ہوئے، گنگناتے ہوئے،ٹریفک کو کھوٹا کر کے، گزر جاتے ہیں۔
آخری بند تے پچھیں دعا!
میری کتاب ‘دم دار ستارے’ جب چھپی نہیں تو آپ کو کیسے ملتی؟20 برس کتاب لکھنے میں لگائے۔ تین چار برس سے اس کے فقروں اور لفظوں کو ناپ تول،کر ٹھونک بجا کر،الٹ پلٹ کر دیکھ رہا ہوں اور اتنے ہی عرصہ سر رؤف کلاسرا کو دیباچہ لکھنے کے لیے پروف شدہ مسودہ دے رکھا ہے لیکن باید وشاید؟رؤف کلاسرا نے بالزاک کے ناول ‘سنہرے بالوں والی لڑکی’ کا اپنا کیا ترجمہ جہلم بک کارنر کے اپنے دوست گگن سے چھپوایا ہے۔استادؔ نے گگن کے میعارِ طباعت،نفاست اور تزئین وزیبائش کی تعریف کی ہے۔ہم بھی اب اس انتظار میں کب کہ استادؔ کا فون آتا ہے کہ میں نے دم دار ستارے کا دیباچہ لکھ دیا ہے، آپ مسودہ گگن کو میل کر دو۔
میری بیٹی عدن خان آپ کی بیٹیوں کو ملنے کے لیے بے تاب ہے۔ کہتی ہے بابا! وہ پاکستان آئیں تو مجھے ان سے ضرور ملوانا! بھابھی کو آداب اور بھتیجیوں کو پیار!عبید اللہ نے مجھے آم اور آپ کو سلام بھیجے ہیں۔
فقط آپ کا دوست
شفیق لغاری، اسلام آباد