جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے پشاور ہائیکورٹ کے چار میں سے تین ایڈیشنل ججز کی ایک سال کی مدت ملازمت میں توسیع کی سفارش کر دی ہے۔
کمیشن نے متفقہ طور پر جسٹس احمد علی کو ایک سال کی توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا۔
جن ایڈیشنل ججز کو ایک سال کی توسیع دینے کی سفارش کی گئی ہے ان میں
جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ، جسٹس نعیم انور اور جسٹس وقار احمد شامل ہیں۔
اجلاس میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی جانب سے
ایڈیشنل ججز کے لیے دیے گئے چار نام واپس لے لیے گئے۔
ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کیلئے رجسڑار پشاور ہائیکورٹ خواجہ وحید الدین، وکیل انعام خان کے نام بھیجے گئے تھے۔
سیشن ججز فضل سبحان اور یونس خان کے نام بھی واپس لے لیے گئے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں جسٹس مقبول باقر اور پاکستان بار کونسل کے نامزد ممبر ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔
اٹارنی جنرل اور وزیر قانون خیبرپختونخوا بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر قانون نہ ہونے کی وجہ سے وفاق کی نمائندگی اٹارنی جنرل نے کی۔