سندھ حکومت کی جانب سے گینگسٹر عزیر بلوچ کے خلاف پبلک کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ میں شامل اعترافی بیانات کے کچھ مندرجات غائب ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حال ہی میں سندھ حکومت نے تین رپورٹس پبلک کی ہیں جن میں سے ایک عزیر بلوچ کے خلاف 35 صفحوں پر مشتمل جے آئی ٹی رپورٹ ہے تاہم حیران کن طور پر پبلک کی جانے والی رپورٹ میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری کے لیے کی جانے والی وارداتوں کا کہیں ذکر نہیں۔
حالیہ رپورٹ میں فریال تالپور کی مداخلت کر کے کیسز ختم کرانے کا بھی ذکر نہیں۔
سابقہ بیانات
رینجرز نے عزیر بلوچ کو 30 جنوری 2016 کو گرفتار کیا تھا اور نوے دن تک ریمانڈ پر اپنی تحویل میں رکھا جس کے بعد عزیر نے 24 اپریل 2016 کو مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کرایا تھا جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے آصف زرداری کی ایما پر بلاول ہاؤس کراچی کے اردگرد 30 سے 40 بنگلے خالی کرائے تھے۔
اپنے اعترافی بیان میں عزیر بلوچ نے مزید انکشاف کیا تھا تھا کہ انہوں نے اویس مظفر ٹپی اور زرداری کی 14 شوگر ملز پر قبضہ کرنے میں معاونت بھی کی تھی جبکہ زرداری اور انکی بہن فریال تالپور کی مداخلت پر انکے سر کی قیمت اور انکے خلاف کیسز ختم کرائے گئے تھے۔
تاہم حیران کن طور پر ان کے یہ اعترافی بیانات حالیہ پبلک کی جانے والی جے آئی ٹی رپورٹ میں موجود نہیں جبکہ مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیے گئے اعترافی بیان کے دیگر مندرجات اسی جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔
حالیہ پبلک کی گئی رپورٹ بالی وڈ کی کسی انڈرورلڈ پر بنائی گئی فلم سے کم نہیں۔
پولیس افسروں کے تبادلے
جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق لیاری گینگ وار کے مشہور کردار عزیر بلوچ کامیابی سے اپنی مرضی کے پولیس افسران کے تبادلے کراتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق گینگسٹر نے تین لوگوں کو اغوا کیا اور ایک گودام میں قتل کر کے ان کی لاشوں کو آگ لگا دی۔
اعترافی بیان کے مطابق قتل کیے گئے تین لوگوں میں سے ایک جرائم پیشہ گروپ کے سرغنہ ارشد پپو اور اس کے دو ساتھی شامل تھے جن پر عذیر بلوچ کے والد کے قتل کا الزام تھا۔
10 اکتوبر 1977 کو لیاری کے علاقے سنگو لائن میں پیدا ہونے والے عزیر بلوچ انٹر تک پڑھے اور 2000 میں اپنے والد فیض محمد بلوچ کے ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں شامل ہوئے۔
2003 میں عزیر بلوچ کے والد فیض محمد بلوچ کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا جس کا الزام ارشد پپو گینگ پر آیا تھا۔ والد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے عزیر نے رحمان ڈکیت کے گینگ کو جوائن کر لیا۔
عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ اس نے پولیس کی مدد سے ارشد پپو کو مار کر اپنے والد کے قتل کا بدلہ لیا۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق 2013 کی 16 اور 17 مارچ کی شب تین پولیس انسپکٹروں، اہلکاروں اور اپنے کارندوں کے ساتھ ارشد پپو، یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کو پولیس موبائلوں کے ذریعے اغوا کیا اور ان تینوں کو آدم ٹی گودام لے جا کر انہیں قتل کیا گیا اور لاشوں کو آگ لگا دی۔
جے آئی ٹی کے مطابق عزیربلوچ 2006 سے لے کر 2008 تک مختلف الزامات میں سینٹرل جیل میں قید رہا اور 2008 میں جیل سے نکلنے کے بعد رحمان ڈکیت نے اسے پیپلز امن کمیٹی کا چئیرمین بنایا۔ پولیس مقابلے میں رحمان ڈکیت کی ہلاکت کے بعد عزیر بلوچ نے گینگ کی کمان سنبھالی۔
تھانوں پر حملوں کے باوجو عزیر بلوچ نے اعتراف کیا کہ اس کے پولیس کے ساتھ گہرے تعلقات رہے ہیں اور اس نے ایس پی اقبال بھٹی کو ٹی پی او لیاری تعینات کرایا، اس کے علاوہ سات انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز کو لیاری کے مختلف تھانوں پر ایس ایچ او تعینات کرایا تاکہ وہ اس کی اور اس کے کارندوں کی مدد کرسکیں۔
گینگسٹر نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ 6 نومبر 2012 کو اس کے دوست امین بلیدی نے لیاری ٹاؤن کے نائب ناظم ملک محمد خان کو لی مارکیٹ کے قریب قتل کر دیا کیونکہ وہ بلوچ مخالف بیانات دیتا تھا۔
ایرانی شہریت
گینگسٹر نے ایرانی شہریت رکھنے کا بھی اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی رشتے دار خاتون عائشہ ایران کی مستقل رہائشی ہیں، جن کے پاس پاکستان اور ایران دونوں کی شہریت ہے۔
مذکورہ خاتون کا بیٹا 14 سال کی عمر میں انتقال کر گیا تھا اور 1987 میں عزیر بلوچ کی رشتے دار نے ملزم کی تصویروں سے ایران میں اپنے بیٹے کے نام سے جعلی برتھ سرٹیفیکٹ بنوایا۔
2006 میں عزیر بلوچ لیاری میں آپریشن کی وجہ سے ایران چلا گیا جہاں اس نے اپنا ایرانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنوایا۔
عزیر بلوچ کے مطابق 2014 میں ایران کے شہر چاہ بہار میں انہیں حاجی ناصر نامی واقف نے پیشکش کی کہ اس کے ایرانی انٹیلیجنس سے اچھے تعلقات ہیں، وہ ان کی ملاقات کا انتظام کر سکتا ہے جس کی اس نے بھر لی اور ملاقات کرائی گئی، ملاقات میں ایرانی انٹیلیجنس حکام نے اسے پاکستان کے فوجی افسران اور تنصیبات کی معلومات فراہم کرنے کا کہا۔
خفیہ معلومات اور نقشے غیر ملکی ایجنسی کے افسران کو فراہم کرنے پر جے آئی ٹی نے سفارش کی تھی کہ عزیر بلوچ کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے جسکے بعد فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور اسے بارہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے کروڑوں روپے مختلف طریقوں سے بھتے وصول کیے جبکہ لینڈ گریبنگ میں بھی ملوث رہے۔
کتنے افراد کو قتل کیا؟
جے آئی ٹی کے مطابق عزیر بلوچ نے قتل کے 198 واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ان وارداتوں میں گینگ وار کے علاوہ لسانی اور سیاسی بنیادوں پر کیے گئے قتل بھی شامل ہیں۔
عزیر بلوچ نے بتایا کہ 2012 میں ڈالمیا سے حاجی اسلم اور اس کے دو بیٹوں کو طلب کیا اور انھیں بابا لاڈلا کے حوالے کیا تاکہ منشیات فروش حنیف بلوچ کے قتل کا بدلہ لیا جا سکے۔
گینگسٹر نے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں حملے اور ہلاکتوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ مذکورہ حملے میں 11 تاجروں کے قتل کے بعد شہر میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی تھی اور تشدد کے واقعات میں مزید درجن بھر مارے گئے تھے۔
عزیر بلوچ نے بتایا کہ 19 اکتوبر 2010 کو کباڑی مارکیٹ میں اس کے لوگوں جبار لنگڑا اور نثار وغیرہ نے ایک سیاسی جماعت کے 11 افراد کو قتل کیا جو اسی جماعت کو چندہ دیتے تھے۔
پولیس اور رینجرز کے جوانوں کی شہادت
عزیر بلوچ کے مطابق اس نے چار پولیس اہلکاروں اور دو رینجرز اہلکاروں کو بھی قتل کیا ہے۔ ایم کیو ایم الطاف کے کارکن شیر محمد شیخ نے گینگسٹر کو 2013 میں بتایا کہ رینجرز انٹیلیجنس ونگ کے دو اہلکاف حوالدار منیر اور حوالدار اعجاز گینگ کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے ہیں جسکے بعد انہیں شہید کردیا گیا۔
شہید کرنے سے قبل گینگسٹر نے دو دن انتظار کیا اور اسی دوران رینجرز حکام نے اس سے رابطہ کر کے لاپتہ اہلکاروں کے بارے میں معلومات حاصل کیں لیکن اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد عزیر بلوچ نے شیخ کو دونوں اہلکاروں کو شہید کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ قتل اس طرح کیے جائیں کہ لگے کہ ایم کیو ایم اس میں ملوث ہے۔
تھانوں پر حملے
عزیر بلوچ نے مزید بیان دیا کہ انسپکٹر آصف منور نے بھتہ بڑھانے کے لیے شیراز کامریڈ کے جوئے کے اڈے پر چھاپا مارا تھا اس پر عزیر بلوچ نے اپنے کارندوں کو تھانے پر حملہ کرنے کو کہا جس میں پولیس کی بکتربند کو نقصان پہنچا۔
2010 میں بھتے کے معاملے پر انسپکٹر چاکیواڑہ بابر ہاشمی اور ڈی ایس پی سرور کمانڈو نے جبار لنگڑا کے اڈے پر چھاپا مارا جس کے بعد عزیر بلوچ کے ساتھیوں نے چاکیواڑہ اور کلاکوٹ کے تھانوں اور کوارٹرز پر حملہ کیا۔