وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ نامکمل ہے، اس میں 6 نام موجود ہی نہیں ہیں۔
پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عزیر بلوچ نے کہا کہ سرکی قیمت فریال تالپور اور آصف زرداری کے کہنے پرختم کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عزیزبلوچ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے سینیٹر یوسف کے کہنے پر قائم علی شاہ سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کے بعد اویس ٹپی عزیربلوچ سے کام لیتا تھا
علی زیدی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں ایک شخص درجنوں قتل کا اعتراف کرتا ہے لیکن یہ کہیں نہیں بتایا کہ اس نے یہ قتل کس کے کہنے پر کیے۔
انہوں نے کہا کہ نبیل گبول نے گزشتہ رات کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ مکمل نہیں ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کے صفحہ نمبر 7 میں عزیر بلوچ فریال تالپور سے ملاقات کی بات کرتا ہے، آخری صفحے پر وہ اس خدشہ کا اظہار کرتا ہے کہ مجھے اور اہل خانہ کو جان سے مار دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل رپورٹ میں رزاق کمانڈو کو مارنے کیلئے قادرپٹیل کے حکم کا ذکر ہے، جن لوگوں کا قاتلوں میں نام موجود ہے وہ آج بھی پارلیمنٹ میں گھوم رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ مشکل سے ریلیز کی گئی، اس میں پولیس کی نااہلی کا ذکر کیا گیا ہے، ایس ایس پی رضوان کا تبادلہ شکارپور کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ وزیر بننے کے بعد دیگر طریقوں سے رقم بٹورتے رہے ہیں، ہمارا فرض غلط کام کو روکنا اور عوام کو حقائق بتانا ہے۔
انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام دستخط کنندہ کو بلائیں اور رپورٹ کے متعلق دریافت کریں۔
علی زیدی نے پریس کانفرنس کے دوران عزیربلوچ کی حلف برداری کی تقریب کی ویڈیو بھی دکھا دی۔