امریکہ نے کورونا ویکسین کی تیاری کے لیے ایسی کمپنی کے ساتھ ایک ارب 60 کروڑ ڈالرز کا معاہدہ کیا ہے جس کی آج تک کوئی پراڈکٹ مارکیٹ میں نہیں آئی۔
امریکی حکومت میری لینڈ کی نوواویکس کمپنی کو ایک ارب 60 کروڑ ڈالر دے گی جس سے وہ اگلے برس کے آغاز تک کورونا ویکسین کی 10 کروڑ خوراکیں تیار کرے گی۔
کورونا وائرس کے حوالے سے شروع کیے گئے آپریشن وارپ اسپیڈ کے تحت یہ ٹرمپ انتظامیہ کی اب تک کی سب سے بڑی ڈیل قرار دی جا رہی ہے جس کا مقصد امریکی عوام تک جلد از جلد ویکسین پہنچانا ہے۔
کورونا کی ویکسین تیار ہونے کے بعد بھی ایک رکاوٹ باقی رہے گی، بل گیٹس
دنیا کے غریب افراد اور ممالک تک کورونا ویکسین کیسے پہنچے گی؟
آپریشن وارپ اسپیڈ میں کئی ایجنسیاں شامل ہیں اور اس کا مقصد رواں برس کے آخر تک امریکی عوام کے لیے ویکسین تیار کرنا ہے لیکن اس پراجیکٹ کی تفصیلات ابھی نہیں بتائی گئیں۔
نوواویکس کے صدر اور چیف ایگزیکٹو سٹینلے سی ایرک نے اتوار کو نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ابھی پوری طرح واضح نہیں ہے کہ یہ بھاری رقم حکومت کے کس شعبے سے آ رہی ہے۔
تاہم بعد ازاں کمپنی کے ترجمان کہا کہ یہ رقم ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز ڈیپارٹمنٹ اور ڈیفینس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دی جا رہی ہے۔
اس سے قبل مئی میں ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ برطانوی دوا ساز کمپنی ایسٹرا زینیکا کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز فراہم کر رہی ہے، کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ اکتوبر تک ویکسین تیار کر لیں گے۔
اسی طرح 4 دیگر کمپنیوں، میڈرنا تھراپیوٹکس، جانسن اینڈ جانسن، مرک اور سنوفی، کو بھی کورونا کی تجرباتی ویکسین کے لیے حکومت نے فنڈز فراہم کیے ہیں۔
امریکہ کے ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے سیکرٹری ایلکس ایم ایزر کا کہنا ہے کہ نوواویکس کو آپریشن وارپ سپیڈ میں شامل کرنے کا مقصد رواں سال کے آخر تک ویکسین کی تیاری کے امکانات میں اضافہ کرنا ہے۔