کورونا وائرس دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے، بار، ریستوران، دفاتر، مارکیٹیں اور کیسینوز میں اس کے کلسٹر سامنے آ رہے ہیں اور یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ رہی ہے کہ وائرس کمروں کے اندر فضا میں موجود رہتا ہے اور دوسرے افراد تک پھیلتا رہتا ہے۔
29 جون کو عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ ہوا کے ذریعے کورونا وائرس صرف اس وقت پھیل سکتا ہے جب وہ 5 مائیکرون سے چھوٹے قطروں میں موجود ہو یا جہاں مریضوں کا علاج ہو رہا ہو۔ (ایک مائیکرون ایک میٹرا کا دس لاکھواں حصہ ہوتا ہے)
ڈبلیو ایچ او کے مطابق صرف ان دو صورتوں میں وینٹی لیشن اور این 95 ماسکس کا استعمال ضروری ہے۔ اس سے ساتھ ساتھ ادارے نے ہاتھ دھونے پر زیادہ زور دیا تھا جس کا مطلب ہے کہ ہوا کے بجائے کسی چیز کی سطح کو چھونے سے وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
لیکن اب دنیا کے 32 ممالک سے تعلق رکھنے والے 239 سائنسدانوں نے عالمی ادارہ صحت کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ہوا کے ذریعے پھیل رہا ہے۔
دی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے بھی کہا ہے کہ سطح کو چھونے سے وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ٹیکنیکل شعبے کے سربراہ ڈاکٹر بینڈٹا الیگرانزی کا کہنا تھا کہ ہوا کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کی شہادت بہت کمزور ہے۔
تاہم نیویارک ٹائمز نے 20 سائنسدانوں اور درجنوں صحت سے متعلقہ افراد کے انٹرویوز کے بعد بتایا ہے کہ عالمی ادارہ صحت سائنس سے بہت فاصلے پر کھڑا ہے۔
اس بات کی ٹھوس شہادتیں موجود ہیں کسی مریض کے چھینکنے سے پیدا ہونے والے بڑے قطروں سے لے کر بولنے اور قہقہے لگانے والوں سے خارج ہونے والے چھوٹے قطروں تک ایک کمرے میں موجود دیگر افراد کے متاثر ہونے کا حقیقی امکان ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں سے بھرے اور ہوا کے اخراج کے ناقص نظام رکھنے والے کمروں میں وائرس کے پھیلنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر بل ہینیج کا کہنا ہے کہ ہوا سے وائرس پھیلنے کا مطلب ہے کہ فضا میں موجود قطرے کئی گھنٹوں تک دیگر افراد کو متاثر کرتے رہتے ہیں، یہ سیڑھیوں سے لے کر لیٹر باکس تک پہنچ جاتے ہیں اور گھروں میں موجود افراد کو متاثر کرتے ہیں۔