پاکستان بار کونسل نے چیئرمین ایف بی آر کو اچانک عہدے سے ہٹانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ یہ تبدیلی حیران کن ہے۔
بار کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کو ہٹانے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور گریڈ 22 کے غیر جانبدار افسر کو چیئرمین ایف بی آر تعینات کیا جائے۔
گزشتہ ہفتہ چیئرمین ایف بی آر کو تبدیل کرکے محمد جاوید غنی کو تعینات کیا گیا تھا جو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ان دو سالوں میں پانچویں تبدیلی ہے۔
پاکستان بار کونسل نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ ایسے وقت میں چیئرمین ایف بی آر کو تبدیل کیا گیا جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ہائی پروفائل مقدمہ اس ادارے کو بھیجا گیا، بظاہر یہ فیصلہ تحقیقات پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کو ایسے وقت میں ہٹانا اور مستقل چیئرمین تعینات نہ کرنا حکومتی بدنیتی ہے، یوں لگتا ہے جیسے حکومت ایف بی آر کی تحقیقات پر اثرانداز ہونا چاہتی ہے۔
بار کونسل کا کہنا ہے کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں غیر جانبدار نہ رہ کر توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے، ایک غیر جانبدار چیئرمین ایف بی آر کی تقرری سے معاملے کی درست تحقیقات ممکن ہو سکتی ہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر غیر جانبدار چیئرمین ایف بی آر کا تقرر نہ کیا گیا تو بار قاضی فائز عیسیٰ کیس کی رپورٹ کو تسلیم نہیں کرے گی اور حکومت کے اس اقدام کی شدید مزاحمت کی جائے گی۔