وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایئرمارشل ارشد ملک کو تین سال کے لیے پی آئی اے کا چیف ایگزیکٹو تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ایئرمارشل ارشد ملک ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو رہیں گے، ریٹائرمنٹ کے بعد وہ باقی عرصہ کنٹریکٹ پر چیف ایگزیکٹو پی آئی اے ہوں گے۔
یاد رہے کہ ایئر مارشل ارشد ملک 12 جولائی کو پاکستان ایئر فورس سے ریٹائر ہو جائیں گے، انہیں 11 اکتوبر 2018 کو وفاقی کابینہ نے پی آئی اے کا چیئرمین بنانے کی منظوری دی تھی، بعد ازاں 2 اپریل 2019ء کو انہیں سی ای او تعینات کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ کو مشکوک ڈگریوں والے پائلٹس کے معاملہ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ جعلی اور مشکوک ڈگریوں والے پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے پائلٹس کی مشکوک ڈگریوں سے متعلق جانچ پڑتال مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔
کابینہ اجلاس کے دوران پاکستانی قیدی سید شارق رضا کی برطانیہ حوالگی کا معاملہ موخر کر دیا گیا جبکہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق کمپنیز ایکٹ 2017 میں ترمیم کا معاملہ بھی موخر کر دیا گیا۔
اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی آئی اے کے جعلی لائسنس والے 28 پائلٹس کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے، تمام مشکوک لائسنس پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے دور میں جاری ہوئے۔
کورونا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں کورونا سے پاکستان بہت کم متاثر ہوا ہے، کورونا کی روک تھام کے لیے حکومت کی حکمت عملی بہت کامیاب رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو عید الاضحیٰ پر کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے، وزیراعظم نے عید الاضحیٰ اپنے گھر پر منانے کا فیصلہ کیا ہے، عوام بھی چاہیئے کہ وہ باہر جانے کے بجائے گھروں میں رہیں۔