اقوام متحدہ کی تفتیش کار ایگنس کالمارڈ نے امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماورائے عدالت، غیر قانونی یا صوابدیدی سزائے موت پر عمل درآمد کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے اپنی رپورٹ میں امریکی آپریشن کو غیرقانونی قرار دیا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ واشنگٹن اس بات کی مناسب شہادت فراہم نہیں کر سکا کہ اسے قاسم سلیمانی سے کون سا فوری خطرہ لاحق تھا جس کے باعث یہ آپریشن کیا گیا۔
انہوں نے ڈرون کے ذریعے قتل و غارت پر جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہتھیاروں پر سخت قواعد و ضوابط عائد کرنے چاہئیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کالمارڈ نے لکھا ہے کہ میجر جنرل قاسم سلیمانی شام اور عراق میں ایران کی فوجی حکمت عملی اور اس پر عملدرآمد کے انچارج تھے، امریکہ کو ان سے کوئی فوری اور حقیقی خطرہ لاحق نہیں تھا، اس لیے امریکہ کا اختیار کیا گیا طریق کار غیرقانونی تھا۔
انہوں نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ قاسم سلیمانی کا قتل پہلا کیس ہے جس میں ایک قوم نے دوسری ریاست کی اہم شخصیت کو تیسرے ملک میں اپنے دفاع کا جواز پیش کرتے ہوئے قتل کیا ہے۔
ایگنس کالمارڈ اپنی تحقیقات جمعرات کو اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں پیش کریں گی جہاں رکن ممالک اس پر کارروائی پر تبادلہ خیال کریں گے۔
یاد رہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کا رکن نہیں ہے، اس نے دو سال قبل ہی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
امریکہ نے استعفیٰ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کونسل پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کا اسرائیل کی جانب سیاسی تعصب اور غیرمتناسب فوکس ہے۔
رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایگنس کالمارڈ نے کہا کہ ڈرون کے حوالے سے دنیا اس وقت ایک نازک مقام پر کھڑی ہے جبکہ سیکیورٹی کونسل بھی متحرک دکھائی نہیں دے رہی، اسی طرح بین الاقوامی برادری بھی زیادہ تر خاموش ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نوری میں بغداد ائیرپورٹ کے قریب ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔
اس واقعہ کے بعد ایران نے عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر کئی میزائل فائر کیے تھے۔