وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ شوگر انکوائری کمیشن میں جواب دہندہ افراد وفاقی، صوبائی حکومتوں اور تمام اداروں کو ان کے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں شوگر انکوائری کمیشن کیس میں 14 صفحات پر مشتمل اضافی دستاویز جمع کرائی ہیں جس میں کمیشن کا گزٹ نوٹیفیکیشن بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے انکوائری کمیشن کے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔
اضافی دستاویزات میں مقدمے کا خلاصہ بھی شامل کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے پر وفاقی حکومت نے انکوائری کمیشن بنایا جو کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے قانون کے تحت بنایا گیا۔ انکوائری کمیشن نے وفاقی، صوبائی شوگر ملوں سے معلومات اکٹھی کیں اور قیمتوں میں اضافے پر تفصیلی رپورٹ مرتب کی جس میں چینی کی صنعت میں قوانین کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی۔
اضافی دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے تیار کردہ رپورٹ کو منظور کرنے کے بعد ریگولیٹرز کو عمل درآمد کے لیے بھیجی مگر کمیشن کی رپورٹ کے خلاف پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جو مسترد ہوئی۔
وفاقی حکومت کے مطابق سماعت میں دلائل دیئے گئے کہ کمیشن کا نوٹیفیکیشن ہر وقت جاری نہیں کیا گیا جبکہ کمیشن کی تشکیل کے بارے میں ایسوسی ایشن مکمل طور پر آگاہ تھی اور نوٹیفیکیشن کے معاملے کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
اضافی دستاویزات میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نوٹیفیکیشن کی تاخیر سے اشاعت سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوتا، سپریم کورٹ کے اس حوالے سے فیصلے موجود ہیں، شوگر ملز والوں کا آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی کا الزام بے بنیاد ہے، یہ دلیل بھی بے بنیاد ہے کہ انکوائری کمیشن صرف صوبے بنا سکتے ہیں، انکوائری کمیشن کی تشکیل آئین اور قانون کے مطابق ہے، چینی کی قیمتوں میں اضافہ کا معاملہ بنیادی انسانی حقوق اور آرٹیکل 9 کا ہے۔
