پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کا وزیراعظم رہنا جمہوریت، معیشت اور ہر پاکستانی کی زندگی کے لیے خطرہ ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی جان بوجھ کر ٹیسٹنگ صلاحیت کم کر کے عوام کو بےوقوف بنا رہی ہے اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کم کریں گے تو کورونا کا گراف نیچے ہی جائے گا جس کا زیادہ نقصان ہوگا، ہم سندھ میں کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ کرتے رہیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ابراج گروپ اور عارف نقوی عمران خان کے اے ٹی ایم ہیں، ابراج گروپ کے خلاف ایف آئی اے کی رپورٹ دبا دی گئی، عارف نقوی نے گرفتاری کے وقت عمران خان اور عارف علوی کو فون کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ علی زیدی کا فرنٹ مین بی آر ٹی کا کنٹریکٹر ہے، پی ٹی آئی حکومت پاکستان کی تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کے والد کرپشن کی وجہ سے ملازمت سے نکالے گئے تھے جبکہ ان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی سلائی مشینوں کے ذریعے نیویارک میں عمارتیں کھڑی ہو رہی ہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ بی آر ٹی سے عمران خان کا کچن اور پی آر مہم چل رہی ہے، فارن فنڈنگ میں کرپشن موجود ہے، اکبر ایس بابر کہہ کہہ کر تھک گیا لیکن نیب خاموش ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ شہباز شریف کی صحتیابی کے بعد اے پی سی اجلاس بلائیں گے، غیر جمہوری کوششوں کا حصہ نہیں بنیں گے لیکن آئینی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو کورونا ہو یا نہ ہو، اسلام آباد جائیں گے اور ان کو باہر نکال دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر پیپلزپارٹی نے ہمیشہ صف اول کا کردار ادا کیا جبکہ عمران خان نے کشمیریوں کو لاوارث چھوڑ دیا، وہ اس مسئلے پر اتحاد قائم کرنے میں ناکام رہے۔