وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکیاں دینے والے عالم مرزا افتخار الدین ماضی میں قادیانی تھے۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو قتل کی دھمکیاں دینے کے معاملے پر ازخودنوٹس کیس میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مرزا افتخارالدین نے 1972 میں چناب نگر سے بی ایس سی کیا، بعد ازاں انہوں نے اسلام قبول کرتے ہوئے شیعہ مسلک اپنایا اور ایران سے مذہبی تعلیم حاصل کی۔
ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملزم کا سفری ریکارڈ بھی مشکوک ہے اور انکی تمام تقاریر کی جانچ پڑتال شروع کردی گئی ہیں۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ افتخارالدین مرزا کا سفری ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ ایران، عراق، شام، کویت اور سعودی عرب جاتے رہے ہیں اور ان کا سفری ریکارڈ غیر معمولی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جن موبائل فونز کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ویڈیوز اپلوڈ کی گئیں ان کا سی ڈی آر حاصل کر لیا ہے، سی ڈی آر کے تجزیے سے یہ بات عیاں ہوئی کہ ملزم نے ایران، سعودی عرب، جنوبی کوریا، ملائیشیا، چین، زمبابوے اور انگلینڈ کالیں کیں، کال ریکارڈ سے مزید لنکس کی شناخت کے لیے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے سوشل میڈیا پر 698 ویڈیوز اپ لوڈ کیں، جن کی جانچ پڑتال اور تجزیے سے یہ دیکھا جائے گا کہ مزید کس کس ویڈیو میں قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق معاملہ پر تحقیقات کے لیے چار رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی جس کے سامنے ملزم ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چنیوٹ اور راولپنڈی کی ریونیو اتھارٹی سے ملزم کی غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں، متعلقہ ریونیو اتھارٹیز سے جواب کا انتظار ہے، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن کا مکمل ریکارڈ مانگا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن نامی ٹرسٹ ملزم افتخارالدین مرزا چلا رہے ہیں، فیڈرل بورڈ سے اقرا پبلک سکول اینڈ کالج کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے، فیڈرل بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق اقرا پبلک اسکول اینڈ کالج میں 532 طلبہ نے 2010-2018 تک میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر سے ملزم افتخارالدین کے ٹیکس ریٹرن اور ویلتھ سٹیٹمنٹ کی تفصیلات مانگی گئیں جن کا انتظار ہے، ملک بھر کے تمام بینکوں سے ملزم کی بینک تفصیلات اور اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، بینکوں کی جانب سے بھی تفصیلات کا انتظار ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم اس وقت پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں، اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے بھی فنڈز لے رہی ہے، ادارے میں یتیم بچوں کے لیے اقرا ہاسٹل قائم کیا گیا، ملزم کے ایران، آسٹریلیا، امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں طالب علموں، دوستوں اور رشتےداروں سے رابطے رہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق ملزم کا سب سے بڑا بیٹا سعودی عرب میں جرمن کمپنی شلمبرجر میں کام کر رہا ہے، افتخارالدین مرزا کی تمام ویڈیوز سوشل میڈیا پر اکبر علی اپلوڈ کرتا تھا، اکبر علی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انہیں افتخارالدین مرزا نے ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کا کہا تھا، اکبر علی نے بتایا کہ ویڈیو ایک یوٹیوب صارف کے کہنے پر ڈیلیٹ کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل کی ویڈیوز اپلوڈ کرنے پر یوٹیوب اور فیسبک نے ملزم کے اکاؤنٹس کو بلاک کیا، ملزم نے معرفت الٰہی اور دین شناس کے نام سے نئے فیسبک پیجز بنائے، افتخارالدین پیدائشی طور پر بلتستان سے تعلق رکھتا ہے۔
ملزم افتخارالدین مرزا اور شریک ملزم اکبر علی گرفتار ہیں اور اس وقت جیل میں ہیں۔