عام طور پر گلے کے پیچھے ہلکا ہلکا احساس اور خراش اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ نزلہ یا زکام جلد ہی اپنی لپیٹ میں لینے والا ہے۔ لیکن جاپان کے شہر ٹوکیو میں رہنے والی خاتون کے ساتھ ایک عجیب ماجرا پیش آیا ہے۔
انہیں گلے میں تکلیف ہوئی تو پتا چلا کہ اس کی وجہ نزلہ زکام کے بجائے ایک زندہ کیچوا تھا جو گلے کے ٹونسلز میں سے ایک میں قیام پذیر تھا۔
امریکی طبی جریدے ٹراپیکل میڈیسن اینڈ ہائجیین میں شائع ایک کیس اسٹڈی کے مطابق، ٹوکیو میں واقع بین الاقوامی سینٹ لیوک اسپتال میں ڈاکٹروں نے مریض کے گلے میں درد اور سوزش کی شکایت کے بعد اس سیاہ رنگ کے لمبے کیڑے کو ٹیوزرز کی مدد سے نکال دیا۔
اس جریدے میں بتایا گیا ہے کہ یہ کیڑا 38 ملی میٹر لمبا اور ایک ملی میٹر چوڑا تھا جو کہ اس خاتون کے گلے سے ہٹانے کے باوجود ابھی تک زندہ تھا۔ اس میں مزید بتایا گیا کہ اس عمل کے بعد خاتون کی طبیعت میں فوری بہتری آنا شروع ہوئی۔
اس کیڑے کی شناخت نیماٹوڈ رن ڈاؤن کے نام سے ہوئی ہے۔ اس طرح کے کیڑے مکوڑے ان انسانوں کو متاثر کرتے ہیں جو کچی مچھلی کھاتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ان کے تھرڈ سٹیج لاروا کچی مچھلی سے بنی ڈشز، ساشیمی یا سوشی میں موجود ہوتے ہیں۔
دی گارڈین میں شائع اس خبر کے مطابق اس تحقیق کے مصنف کا کہنا ہے کہ سوشی اور ساشیمی جیسی ڈشز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث دنیا بھر میں اس قسم کے مصدقہ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بعد ازاں اس 25 سالہ خاتون نے تصدیق کی کہ اس نے یہ کیڑا گلے سے نکلنے کے پانچ روز قبل ساشیمی ڈش کھائی تھی۔