دنیا کے 83 ارب پتی افراد نے اپنی اپنی حکومتوں سے خود پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
انہوں نے یہ مطالبہ ایک خط کے ذریعے کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ دنیا کے کروڑوں غریب افراد کے برعکس ہمیں نہ ہی ملازمت چھن جانے کا خطرہ ہے اور نہ ہی گھر سے محرومی یا خاندان کی مدد کرنے سے محرومی کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کورونا وبا کے خلاف صف اول کے لڑنے والوں میں شامل نہیں ہیں اور ہمیں اس کا شکار ہونے کا بہت کم خطرہ ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے اوپر ٹیکس بڑھا دیے جائیں، یہی درست انتخاب ہے اور یہی واحد رستہ ہے۔
ان 83 ارب پتی افراد کا تعلق 7 ممالک سے ہے، ان میں ڈزنی کے ورثا ٹام اور ابیگیل ڈزنی، وئیر ہاؤس گروپ کے بانی اسٹیفن ٹنڈل اور بین اینڈ جیری آئسکریم کے شریک بانی جیری گرین فیلڈ شامل ہیں۔
انہوں نے خود کو ‘ملینیئرز فار ہیومینٹی’ قرار دیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ ان پر فوری طور پر، بڑی مقدار میں اور مستقل طور پر ٹیکس عائد کیا جائے۔
ارب پتی افراد نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ہم نہ ایمبولنس چلا کر مریضوں کو اسپتال لاتے ہیں اور نہ ہی لوگوں کے گھروں پر خوراک پہنچانے والوں میں شامل ہیں لیکن ہمارے پاس ڈھیر ساری دولت ہے جس کی اب بھی دنیا کو ضرورت ہے اور کورونا بحران سے نمٹنے کے لیے اگلی کئی دہائیوں تک رہے گی۔
ان کا یہ خط اس وقت منظر عام پر آیا ہے جب جی 20 کے وزرائے خزانہ کا اجلاس ہونے والا ہے۔
اس سے قبل ہی امیروں پر ٹیکس بڑھانے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں، انسٹی ٹیوٹ آف فسکل اسٹڈیز کے تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ ٹیکسوں میں بڑا اضافہ ناگزیر ہے۔
اسپین کے وزیر اعثم پیدرو سانشے ملک میں ٹیکس بڑھانے کا عندیہ دے چکے ہیں جبکہ روس نے امیر افراد سے ٹیکس وصول وصولی بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں ارب پتی موجود ہیں، ان کی جانب سے اس قسم کا مطالبہ تو دور کی بات ہے، الٹا وہ حکومت سے سبسڈی مانگتے رہتے ہیں۔
اسی طرح ملک میں ذخیرہ اندوزی اور کارٹل بنانا ایک معمول بن چکا ہے جس میں کورونا وبا کے دوران کمی کے بجائے اضافہ ہو گیا ہے۔
اگر تاجروں کو دیکھا جائے تو وہ ٹیکس حکام کے سامنے اپنا ریکارڈ پیش نہیں کرنا چاہتے اور غیردستاویزاتی انداز میں کاروبار چلانے پر مصر ہیں۔
کیا ہم امید کر سکتے ہیں کہ ان 83 افراد کی طرح پاکستان میں بھی امیر افراد خود پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ پیش کر سکتے ہیں؟