جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عطاالرحمان نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو یہ ملک ہی نہیں رہے گا۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب یہ ملک ہی باقی نہیں رہے گا تو آپ کھائیں گے کیا؟
عطاالرحمان نے کہا کہ اس وقت اٹھارویں ترمیم کو زیر بحث لانا یا این ایف سی ایوارڈ پر بات کرنا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے جب یہ باز گشت سنی تو ہم نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان سے رابطے کیے اور چاروں صوبوں میں آل پارٹیز کانفرنسز کیں، بہت جلد ہم قومی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام افراد صرف مہرے ہیں، اصل لوگ سامنے نہیں آ رہے جن کا حقیقی درد ان کے اپنے اختیارات میں کمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کو سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت زیر بحث لایا جا رہا ہے، ہم اس ملک کو توڑنے نہیں دیں گے، صوبوں کو لڑانے کی سازش کی جا رہی ہے۔
رضا ربانی کی تقریر
اس موقع پر سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اپوزیشن اور جمہوری قوتیں اٹھارویں ترمیم پر گفتگو کرنے سے گریز کرتی ہیں، یہ بات درست نہیں ہے ہمارا مؤقف واضح ہے اور اس سے تاریخ وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام وسائل پر کراچی اور اسلام آباد کے قبضے برقرار رکھنے کی کوششیں کیں گئیں، اس بار اشرافیہ کے ساتھ آئی ایم ایف بھی نتھی ہو گئی، اشرافیہ پاکستان کے صوبوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کو صرف قانون کے طور پر نا دیکھا جائے، اس معاملے پر اگر حالات بگڑے تو وفاق کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
بیرسٹر سیف کا جواب
سینیٹ میں بیرسٹر محمد علی سیف نے جوابی تقریر میں کہا کہ رضا ربانی بتائیں کہ اشرافیہ ہے کون ؟ چند سال قبل کون حکومتوں میں رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اتنی دولت فرعون کے پاس نہیں تھی جتنی آپ کے پاس ہے، آمریت کی باتیں کرنے والے پہلے اپنی پارٹی دیکھ لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کوئی صحیفہ نہیں ہے، اس پر ضرور بات ہو گی، اپوزیشن کس بات سے ڈر رہی ہے، سینیٹ میں اکثریت ان کی ہے۔