فاکس نیوز کی سابق خاتون ملازم جینفر ایکہارٹ نے نیویارک کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے جس میں انہوں نے فاکس نیوز کے سابقہ اینکر ایڈ ہنری پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔
اپنی شکایت میں انہوں نے کہا ہے کہ ہنری نے انہیں پہلے نفسیاتی طور پر جنسی تعلق رکھنے کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی، جس میں ناکامی کے بعد پہلے دفتر میں ان کے ساتھ زبردستی کی اور بعد میں ہوٹل میں زیادتی کی۔
ایڈ ہنری کی جانب سے ان کی وکیل کیتھرین فوٹی نے کہا ہے کہ شہادتوں سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ ایکہارٹ نے یہ تعلق خود شروع کیا اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
فاکس نیوز کے ترجمان نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ 25 جون کو ایکہارٹ کے الزامات کا علم ہونے پر ادارے نے فوری ایکشن لیا اور اب مسٹر ہنری فوکس نیوز کے ملازم نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایکہارٹ براہ راست ہنری کے خلاف اپنی قانونی کارروائی کر سکتی ہیں۔
فاکس نیوز کا کہنا ہے کہ ادارے نے یکم جولائی کو سابقہ ملازم کی شکایات ملنے پر ایڈ ہنری کو ملازمت سے برخواست کر دیا تھا اور ایک قانونی فرم کو تحقیقات سونپ دی تھیں۔
ایکہارٹ نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ جولائی 2017 میں فوکس نیوز کو ہنری کے غلط رویے کے متعلق علم تھا۔
فاکس نیوز کے ترجمان نے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ 25 جون 2020 سے قبل ادارے کو ایڈ ہنری کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔
ایکہارٹ کے ساتھ ایک اور خاتون کیتھی آریو بھی ہنری کے خلاف مقدمے میں شریک ہیں، وہ ان کے پروگرام میں بطور مہمان آیا کرتی تھیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہنری نے جنسی تعلقات کے بدلے انہیں کیرئیر میں مدد دینے کا اشارہ دیا تھا۔
انہوں نے اپنی شکایت میں مزید کہا ہے کہ فاکس نیوز کے اینکرز شان ہینیٹی اور ٹکر کارلسن کے علاوہ میزبان ہوارڈ کرٹز اور سیاسی تجزیہ کار جیانو کالڈویل نے بھی انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق فاکس نیوز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک لا فرم کی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ آریو کے الزامات جھوٹے، بے بنیاد اور میرٹ کے خلاف ہیں۔