صدف زہرا کیس میں عدالت نے ملزم علی سلمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی ہے۔
29 جون کو صدف زہرا کی پراسرار موت میں گرفتار ان کے خاوند علی سلمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں عدالت نے 5 اگست تک توسیع کر دی ہے۔
مقدمے میں پولیس نے ابھی تک چالان جمع نہیں کرایا جس کی وجہ سے کیس کا ٹرائل شروع نہیں ہو سکا۔
نقارخانہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس کیس کے تفتیشی سب انسپکٹر ظہور نے بتایا کہ فرانزک رپورٹ ابھی تک موصول نہیں ہوئی جس کی وجہ سے تفتیش کا مرحلہ مکمل نہیں ہو سکا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس مختلف زاویوں سے کیس کی تفتیش کر رہی ہے، پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والی سیڑھی اور پنکھا بھی اپنے قبضے میں لیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں تفتیشی افسر نے بتایا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ قتل ہے یا خودکشی کیونکہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی اس کا تعین ہو گا۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں شواہد اور گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، مقدمے کی سست روی پر ان کا کہنا تھا کہ پولیس روزانہ کی بنیاد پر اس کیس پر کام کر رہی ہے اور فرانزک رپورٹ جلد حاصل کرنے کے لیے ریمائنڈر بھی بجھوائے جا چکے ہیں۔
تفتیشی افسر سب انسپکٹر ظہور کا کہنا تھا کہ اگر مقدمہ کے مدعی کی طرف سے کسی شخص کو شامل تفتیش کرنے کی درخواست کرتے ہیں تو پولیس اس درخواست پر عمل درآمد کرے گی۔
صدف زہرا کیس میں سست روی پر سوشل میڈیا پر لوگوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور پولیس پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ پولیس کی عدم دلچسپی اور کمزور تفتیش سے صدف زہرا کی فیملی کو انصاف نہ ملنے کے خدشات ہیں۔