وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عدالتوں اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو اخلاقیات کی پولیس کا کردار ادا کرنے اور ایپس پر پابندیاں عائد کرنے سے دور رہنا چاہیئے۔
انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انٹرنیٹ سے چلنے والی ایپلی کیشنز پر پابندی سے پاکستان کی ٹیکنالوجی کی صنعت تباہ ہو جائے گی۔
انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی کا راستہ مستقل طور پر مسدود ہو جائے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جج صاحبان کی معاشی معاملات میں مداخت کے اثرات سے ہم ابھی تک باہر نہیں نکل سکے۔
سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا، یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس قاضی امین نے کہا کہ کیا ایف آئی اے اور پی ٹی اے نے دیکھا ہے یوٹیوب پر کیا ہو رہا ہے؟ سوشل میڈیا پر ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ہم انفرادی مواد کو ہٹا نہیں سکتے، صرف رپورٹ کر سکتے ہیں، جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کئی ممالک میں یوٹیوب بند ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور یورپی یونین کے خلاف مواد یوٹیوب پر ڈال کر دکھائیں، آپ کو پتا چل جائے گا، کئی ممالک میں سوشل میڈیا کو مقامی قوانین کے تحت کنٹرول کیا جاتا ہے۔