مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود کو سائنس کا امام سمجھتے ہیں مگر یہ ان کی جہالت ہے۔
انہوں نے فواد چوہدری کے چاند کے متعلق بیان پر کہا ہے کہ یہ سائنس اور مذہب دونوں اعتبار سے پہلی کا چاند تھا، 29 کا چاند اگر موجود ہو مگر کسی وجہ سے نظر نہ آ سکے تو اسے 30 کا مہینہ گنا جاتا ہے۔
مفتی منیب الرحمان نے مزید کہا کہ ایسے چاند کی عمر اگلے 24 گھنٹوں کے دوران بڑھ جاتی ہے اس لیے وہ بڑا نظر آتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری خود کا سائنس کا امام سمجھتے ہیں، انہوں نے گزشتہ رات چاند کی تصویر شیئر کر کے عوام سے فیصلہ کرنے کا کہا تھا، یہ ان کی جہالت ہے۔
انہوں نے سوال پوچھا کہ چاند کے حجم سے تاریخ کا تعین فلکیات یا سائنس کی کونسی کتاب میں لکھا ہے؟
یاد رہے کہ اس سے قبل فواد چوہدری نے ٹویٹر پر چاند کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام خود فیصلہ کر لیں کہ کیا یہ پہلی کا چاند ہے؟
اس سے قبل انہوں نے یہ پیش گوئی بھی کیا تھا کہ 21 جولائی کو چاند نظر آئے گا اور 31 جولائی کو عید الاضحیٰ ہو گی مگر رویت ہلال کمیٹی نے 21 جولائی کو چاند نہ نظر آنے اور عید یکم اگست کو ہونے کا اعلان کیا تھا۔
ماضی میں بھی مفتی منیب الرحمان اور فواد چوہدری کے درمیان لفظی گولہ باری چلتی رہی ہے۔