سپریم کورٹ نے نیب کی کارکردگی پر ایک بار پھر سوالات اٹھاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دار قومی احتساب بیورو ہے۔
سپریم کورٹ نے مزید آبزرویشن دی ہے کہ نیب تفتیشی افسران میں اہلیت اور صلاحیت نہیں، نیب میں تفتیش کا معیار جانچنے کیلئے کوئی نظام نہیں، نقائص سے بھرپور تفتیشی رپورٹ ریفرنس میں تبدیل کر دی جاتی ہے، ریفرنس دائر کرنے کے بعد نیب اپنی غلطیاں سدھارنے کی کوشش کرتا ہے اور غلطیوں سے بھرپور ریفرنس پر عدالتوں کو فیصلہ کرنے میں مشکلات ہوتی ہیں۔
سپریم کورٹ نے یہ اہم ریمارکس لاکھڑا پاور پلانٹ تعمیر میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے جسکے سامنے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نیب سید اصغر حیدر پیش ہوئے۔
سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا آغاز ہی نیب آفس سے ہوتا ہے۔
عدالت نے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی منظوری لینے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ سیکرٹری قانون کابینہ سے منظوری لیکر ایک ماہ میں ججز تعیناتی کا عمل شروع کریں۔
سماعت کے دوران 21 سال سے نیب کے رولز نہ بننے کا انکشاف بھی ہوا اور اسکیوٹر جنرل نیب نے اس کا اعتراف کیا جس پر عدالت نے نیب کو ایک ماہ میں نیب آرڈیننس کی سیکشن 34 کے تحت رولز بنا کر پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ نیب کے ایس او پیز رولز کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب کے تفتیشی افسران میں صلاحیت کا فقدان ہے، قانونی پہلوؤں کا تفتیش افسران کو پتہ نہیں ہوتا، تحقیقات سالوں چلتی رہتی ہے، لوگوں سالوں تک نیب میں پھنس جاتے ہیں، 30 دن میں فیصلے کی بجائے لوگ 30 سال تک پڑے رہتے ہیں، نیب کے ریفرنس کی بنیاد ہی غلط ہوتی ہے، ریفرنس میں معیار نہیں ہوتا، نیب ریفرنس میں پچاس پچاس گواہ بنا لیتا ہے، سزا دلوانے کیلئے کوالٹی کا ایک گواہ ہی کافی ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے تفتیش مکمل ہونے سے پہلے گرفتاریوں پر بھی سوال اٹھا ئے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے گرفتار کرنے کی کیا منطق ہے؟ اگر ملزم تفتیش میں جواب نہ دے تو گرفتاری سمجھ آتی ہے، بلاوجہ گرفتاریوں سے عدالتوں پر بوجھ پڑتا ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے گرفتاری کا معاملہ چیئرمین کے نوٹس میں لائیں گے، حکومت، اپوزیشن اور میڈیا سب ہی نیب کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہو کر کہا کہ آپ نے تمام الزام عدالتوں پر لگا دیا جس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا ہی ہے، ہمیں کوئی معاونت نہیں ملتی، حقائق اور لیگل پہلوؤں کا معلوم نہیں ہوتا، تحقیقات انکوائری سالوں کرتے رہتے ہیں۔
پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹرز کو دھمکیاں مل رہی ہیں، راولپنڈی میں ایک پراسیکیوٹر پر فائرنگ کی گئی، راولپنڈی پولیس تو فائرنگ کا مقدمہ ہی درج نہیں کر رہی تھی، فائرنگ کا مقدمہ درج کرانے کیلئے نہ جانے کس کس کو بیچ میں ڈالنا پڑا، حکومت ہمیں فنڈز دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے، ملزمان کے وکلاء قد آور اور بھاری بھرکم فیس والے ہوتے ہیں جبکہ نیب پراسیکیوٹرز کی تنخواہیں اور مراعات انتہائی کم ہیں، فنڈز ملیں تو اچھے پراسیکیوٹرز بھرتی کریں گے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ فنڈز انتظامی معاملہ ہے، عدالت اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتی۔
پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ سب ہمارے ہی خلاف ہیں صرف سپریم کورٹ سے حوصلہ ملتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب والے کچے پکے کیس بنا کر عدالتوں کو بھیج دیتے ہیں۔
پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ تفتیشی افسران کی نیویارک اور برٹش پولیس سے تربیت کرا رہے ہیں، ان حالات میں بھی نیب 61% ملزمان کو سزا دلوا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نئی عدالتوں کے قیام میں 2۔6 ارب کا مسئلہ چوزے کی خوراک کے برابر ہے، نیب مقدمات جیتے تو 1000 ارب سے زائد کی ریکوری ہو سکتی ہے، 2 ارب تو نیب کے ایک کیس سے ہی نکل آئیں گے، حکومت کے پاس اب زیادہ وقت نہیں، بیس بیس سال سے مقدمات احتساب عدالتوں میں پڑے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔
نئی احتساب عدالتوں کے لیے پونے 3 ارب سے زائد فنڈز درکار
نئی احتساب عدالتوں کے قیام کے حوالے سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے سپریم کورٹ میں وزارت قانون کی تیار کردہ رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 120 عدالتوں کے قیام کے لیے سالانہ 2 ارب 86 کروڑ کی ضرورت ہے، اس حوالے سے مشاورت شروع کردی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان عدالتوں کے لیے قانونی اور مالی ضروریات پوری کرنا ضروری ہیں۔ رپورٹ میں ملک بھر کی احتساب عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تفصیل بھی شامل ہے۔
ملک بھر کی 24 احتساب عدالتوں میں 975 مقدمات زیر التوا ہیں اور تمام عدالتیں فعال ہیں۔
اسلام آباد کی 3 احتساب عدالتوں میں 110 مقدمات زیر التوا ہیں، لاھور کی 5 عدالتوں میں 213 مقدمات زیر التوا ہیں، راولپنڈی کی 3 عدالتوں میں 18 مقدمات زیر التوا ہیں، ملتان کی ایک عدالت میں 80، سکھر میں 56 اور کوئٹہ کی 2 عدالتوں میں 108 مقدمات زیر التوا ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کی 5 عدالتوں میں 188 اور حیدر آباد کی عدالت میں 38 مقدمات زیر التوا ہیں، پشاور کی 4 احتساب عدالتوں میں 164 مقدمات زیر التوا ہیں۔
عدالتی حکم کے مطابق 5 احتساب عدالتوں میں ججوں کی خالی آسامیاں پر کرنے کے لیے سمری ارسال کر دی گئی ہے، سپریم کورٹ نے 8 جولائی کو پانچ خالی آسامیاں پر کرنے اور نئی عدالتوں کے قیام سے متعلق حکم دیا تھا۔